کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: اسلام کے سوا کسی دوسرے مذہب کے قسم کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1543
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ غَيْرِ الْإِسْلَامِ كَاذِبًا ، فَهُوَ كَمَا قَالَ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي هَذَا إِذَا حَلَفَ الرَّجُلُ بِمِلَّةٍ سِوَى الْإِسْلَامِ ، فَقَالَ : هُوَ يَهُودِيٌّ ، أَوْ نَصْرَانِيٌّ ، إِنْ فَعَلَ كَذَا وَكَذَا ، فَفَعَلَ ذَلِكَ الشَّيْءَ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : قَدْ أَتَى عَظِيمًا وَلَا كَفَّارَةَ عَلَيْهِ ، وَهُوَ قَوْلُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، وَبِهِ يَقُولُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، وَإِلَى هَذَا الْقَوْلِ ذَهَبَ أَبُو عُبَيْدٍ ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَغَيْرِهِمْ : عَلَيْهِ فِي ذَلِكَ الْكَفَّارَةُ ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ ، وَأَحْمَدَ ، وَإِسْحَاق .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ثابت بن ضحاک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے اسلام کے سوا کسی دوسرے مذہب کی جھوٹی قسم کھائی وہ ویسے ہی ہو گیا جیسے اس نے کہا “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اہل علم کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ جب کوئی اسلام کے سوا کسی دوسرے مذہب کی قسم کھائے اور یہ کہے : اگر اس نے ایسا ایسا کیا تو یہودی یا نصرانی ہو گا ، پھر اس نے وہ کام کر لیا ، تو بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اس نے بہت بڑا گناہ کیا لیکن اس پر کفارہ واجب نہیں ہے ، یہ اہل مدینہ کا قول ہے ، مالک بن انس بھی اسی کے قائل ہیں اور ابو عبید نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے ،
۳- اور صحابہ و تابعین وغیرہ میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اس صورت میں اس پر کفارہ واجب ہے ، سفیان ، احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب النذور والأيمان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1543
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (2098)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الجنائز 83 (1363) ، والأدب 44 (6047) ، و73 (6105) ، والأیمان 7 (6652) ، صحیح مسلم/الأیمان 47 (110) ، سنن ابی داود/ الأیمان 9 (3257) ، سنن النسائی/الأیمان 7 (3801) ، سنن ابن ماجہ/الکفارات 3 (2098) ، و 31 (3844) ، ( تحفة الأشراف : 2062) ، و مسند احمد (4/33، 34) (صحیح)»