حدیث نمبر: 1463
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبيبٍ , عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُجْلَدُ فَوْقَ عَشْرِ جَلَدَاتٍ , إِلَّا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ , لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ , وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي التَّعْزِيرِ , وَأَحْسَنُ شَيْءٍ رُوِيَ فِي التَّعْزِيرِ , هَذَا الْحَدِيثُ , قَالَ : وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ ابْنُ لَهِيعَةَ , عَنْ بُكَيْرٍ , فَأَخْطَأَ فِيهِ , وَقَالَ : عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَهُوَ خَطَأٌ , وَالصَّحِيحُ حَدِيثُ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ , إِنَّمَا هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوبردہ بن نیار رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا : ” دس سے زیادہ کسی کو کوڑے نہ لگائے جائیں ۱؎ سوائے اس کے کہ اللہ کی حدود میں سے کوئی حد جاری کرنا ہو “ ۲؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف بکیر بن اشج کی روایت سے جانتے ہیں ۔
۲-تعزیر کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے ، تعزیر کے باب میں یہ حدیث سب سے اچھی ہے ،
۳- اس حدیث کو ابن لہیعہ نے بکیر سے روایت کیا ہے ، لیکن ان سے اس سند میں غلطی ہوئی ہے ، انہوں نے سند اس طرح بیان کی ہے : «عن عبدالرحمٰن بن جابر بن عبد الله عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» حالانکہ یہ غلط ہے ، صحیح لیث بن سعد کی حدیث ہے ، اس کی سند اس طرح ہے : «عبدالرحمٰن بن جابر بن عبد الله عن أبي بردة بن نيار عن النبي صلى الله عليه وسلم» ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف بکیر بن اشج کی روایت سے جانتے ہیں ۔
۲-تعزیر کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے ، تعزیر کے باب میں یہ حدیث سب سے اچھی ہے ،
۳- اس حدیث کو ابن لہیعہ نے بکیر سے روایت کیا ہے ، لیکن ان سے اس سند میں غلطی ہوئی ہے ، انہوں نے سند اس طرح بیان کی ہے : «عن عبدالرحمٰن بن جابر بن عبد الله عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» حالانکہ یہ غلط ہے ، صحیح لیث بن سعد کی حدیث ہے ، اس کی سند اس طرح ہے : «عبدالرحمٰن بن جابر بن عبد الله عن أبي بردة بن نيار عن النبي صلى الله عليه وسلم» ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے کا صحیح محل یہ ہے کہ یہ بال بچوں اور غلام و خادم کی تادیب سے متعلق ہے کہ آدمی اپنے زیر لوگوں کو ادب سکھائے تو دس کوڑے تک کی سزا دے، رہ گئی دوسری وہ خطائیں جن میں شریعت نے کوئی حد مقرر نہیں کی ہے جیسا کہ خائن، لٹیرے، ڈاکو اور اچکے پر خاص حد نہیں ہے تو یہ حاکم کی رائے پر منحصر ہے، اگر حاکم اس میں تعزیراً سزا دینا چاہے تو دس کوڑے سے زیادہ جتنا چاہے حتیٰ کہ قتل تک سزا دے سکتا ہے، رہ گئی زیر نظر حدیث تو اس میں اور یہ ایسے تادیبی امور ہیں جن کا تعلق معصیت سے نہیں ہے، مثلاً والد کا اپنی چھوٹی اولاد کو بطور تأدیب سزا دینا۔
۲؎: ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث میں حدود سے مراد ایسے حقوق ہیں جن کا تعلق اوامر الٰہی اور منہیات الٰہی سے ہے، چنانچہ «ومن يتعد حدود الله فأولئك هم الظالمون» (البقرة: ۲۲۹) اسی طرح «تلك حدود الله فلا تقربوها» (البقرة: ۱۸۷) میں ”حدود“ کا یہی مفہوم ہے۔ اگر بات شریعت کے اوامر و نواہی کی ہو تو حاکم کو مناسب سزاؤں کے اختیار کی اجازت ہے۔
۲؎: ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث میں حدود سے مراد ایسے حقوق ہیں جن کا تعلق اوامر الٰہی اور منہیات الٰہی سے ہے، چنانچہ «ومن يتعد حدود الله فأولئك هم الظالمون» (البقرة: ۲۲۹) اسی طرح «تلك حدود الله فلا تقربوها» (البقرة: ۱۸۷) میں ”حدود“ کا یہی مفہوم ہے۔ اگر بات شریعت کے اوامر و نواہی کی ہو تو حاکم کو مناسب سزاؤں کے اختیار کی اجازت ہے۔