کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: جانور سے وطی (جماع) کرنے والے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1455
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو السَّوَّاقُ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ وَجَدْتُمُوهُ وَقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ فَاقْتُلُوهُ وَاقْتُلُوا الْبَهِيمَةَ " , فَقِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ : مَا شَأْنُ الْبَهِيمَةِ ؟ قَالَ : مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ شَيْئًا , وَلَكِنْ : " أَرَى رَسُولَ اللَّهِ كَرِهَ أَنْ يُؤْكَلَ مِنْ لَحْمِهَا , أَوْ يُنْتَفَعَ بِهَا , وَقَدْ عُمِلَ بِهَا ذَلِكَ الْعَمَلُ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس آدمی کو جانور کے ساتھ وطی ( جماع ) کرتے ہوئے پاؤ تو اسے قتل کر دو اور ( ساتھ میں ) جانور کو بھی قتل کر دو “ ۔ عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے پوچھا گیا : جانور کو قتل کرنے کی کیا وجہ ہے ؟ انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں کچھ نہیں سنا ہے ، لیکن میرا خیال ہے کہ جس جانور کے ساتھ یہ برا فعل کیا گیا ہو ، اس کا گوشت کھانے اور اس سے فائدہ اٹھانے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند سمجھا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- عمرو بن ابی عمرو کی حدیث کو جسے وہ بطریق : «عكرمة عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کرتے ہیں ۔ ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی عاصم کی روایت جو ابن عباس سے موقوف ہے یہ زیادہ صحیح ہے عمرو بن ابی عمرو کی روایت سے جو اس سے پہلے مذکور ہوئی ہے۔
۲؎: یعنی ان کا عمل عاصم کی موقوف روایت پر ہے کہ جانور سے وطی کرنے والے پر کوئی حد نہیں ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1455
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح، ابن ماجة (2564)
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الحدود 29 (3062) ، سنن ابن ماجہ/الحدود 13 (4464) ، ( تحفة الأشراف : 6176) ، و مسند احمد (1/269، 300 (حسن صحیح)»
حدیث نمبر: 1455M
وَقَدْ رَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ أَبِي رُزَيْنٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ أَتَى بَهِيمَةً فَلَا حَدَّ عَلَيْهِ " , حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ , وَهَذَا أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ , وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ , وَإِسْحَاق .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ اور سفیان ثوری نے بطریق : «عاصم عن أبي رزين عن ابن عباس» ( موقوفاً عليه ) روایت کی ہے ، وہ کہتے ہیں : جانور سے «وطی» ( جماع ) کرنے والے پر کوئی حد نہیں ہے ۔ ہم سے اس حدیث کو محمد بن بشار نے بسند «عبدالرحمٰن بن مهدي حدثنا سفيان الثوري» بیان کیا اور یہ ۱؎ پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ،
۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۲؎ ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1455M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح، ابن ماجة (2564)
تخریج حدیث «تفرد بہ مالمؤلف و انظر ما قبلہ ( تحفة الأشراف : 6454) (حسن)»