حدیث نمبر: 1451
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ , وَأَيُّوبَ بْنِ مِسْكِينٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ , قَالَ : رُفِعَ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ , رَجُلٌ وَقَعَ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ , فَقَالَ : لَأَقْضِيَنَّ فِيهَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَئِنْ كَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَهُ لَأَجْلِدَنَّهُ مِائَةً , وَإِنْ لَمْ تَكُنْ أَحَلَّتْهَا لَهُ رَجَمْتُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حبیب بن سالم کہتے ہیں کہ` نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کے پاس ایک ایسے شخص کا مقدمہ پیش ہوا جس نے اپنی بیوی کی لونڈی کے ساتھ زنا کیا تھا ، انہوں نے کہا : میں اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کروں گا : اگر اس کی بیوی نے اسے لونڈی کے ساتھ جماع کی اجازت دی ہے تو ( بطور تادیب ) اسے سو کوڑے ماروں گا اور اگر اس نے اجازت نہیں دی ہے تو ( بطور حد ) اسے رجم کروں گا ۔
حدیث نمبر: 1452
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ , عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ نَحْوَهُ ، قَالَ : وَفِي الْبَاب , عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ , قَالَ : أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ النُّعْمَانِ فِي إِسْنَادِهِ اضْطِرَابٌ , قَالَ : سَمِعْت مُحَمَّدًا , يَقُولُ : لَمْ يَسْمَعْ قَتَادَةُ مِنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ هَذَا الْحَدِيثَ , إِنَّمَا رَوَاهُ عَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ , وَيُرْوَى عَنْ قَتَادَةَ , أَنَّهُ قَالَ : كُتِبَ بِهِ إِلَى حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ , وَأَبُو بِشْرٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ هَذَا أَيْضًا , إنما قَالَ أَبُو عِيسَى : وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ , فِي الرَّجُلِ يَقَعُ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ , فَرُوِيَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِنْهُمْ عَلِيٌّ , وَابْنُ عُمَرَ , أَنَّ عَلَيْهِ الرَّجْمَ , وقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : لَيْسَ عَلَيْهِ حَدٌّ , وَلَكِنْ يُعَزَّرُ , وَذَهَبَ أَحْمَدُ , وَإِسْحَاق , إِلَى مَا رَوَى النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` نعمان بن بشیر سے اسی جیسی حدیث آئی ہے ۔ قتادہ کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا : حبیب بن سالم کے پاس یہ مسئلہ لکھ کر بھیجا گیا ۱؎ ۔ ابوبشر نے بھی یہ حدیث حبیب بن سالم سے نہیں سنی ، انہوں نے اسے خالد بن عرفطہٰ سے روایت کیا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- نعمان کی حدیث کی سند میں اضطراب ہے میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ قتادہ نے اس حدیث کو حبیب بن سالم سے نہیں سنا ہے ، انہوں نے اسے خالد بن عرفطہٰ سے روایت کیا ہے ،
۲- اس باب میں سلمہ بن محبق سے بھی روایت ہے ،
۳- بیوی کی لونڈی کے ساتھ زنا کرنے والے کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے ، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی صحابہ سے مروی ہے جن میں علی اور ابن عمر بھی شامل ہیں کہ اس پر رجم واجب ہے ، ابن مسعود کہتے ہیں : اس پر کوئی حد نہیں ہے ، البتہ اس کی تادیبی سزا ہو گی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا مسلک اس ( حدیث ) کے مطابق ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بواسطہ نعمان بن بشیر آئی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- نعمان کی حدیث کی سند میں اضطراب ہے میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ قتادہ نے اس حدیث کو حبیب بن سالم سے نہیں سنا ہے ، انہوں نے اسے خالد بن عرفطہٰ سے روایت کیا ہے ،
۲- اس باب میں سلمہ بن محبق سے بھی روایت ہے ،
۳- بیوی کی لونڈی کے ساتھ زنا کرنے والے کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے ، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی صحابہ سے مروی ہے جن میں علی اور ابن عمر بھی شامل ہیں کہ اس پر رجم واجب ہے ، ابن مسعود کہتے ہیں : اس پر کوئی حد نہیں ہے ، البتہ اس کی تادیبی سزا ہو گی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا مسلک اس ( حدیث ) کے مطابق ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بواسطہ نعمان بن بشیر آئی ہے ۔
وضاحت:
۱؎: گویا قتادہ نے یہ حدیث حبیب بن سالم سے نہیں سنی ہے۔