حدیث نمبر: 1445
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , أَخْبَرَتْهُ عَمْرَةُ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ : " يَقْطَعُ فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا " , قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ عَائِشَةَ , حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ , عَنْ عَمْرَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , مَرْفُوعًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چوتھائی دینار ۱؎ اور اس سے زیادہ کی چوری پر ہاتھ کاٹتے تھے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- یہ حدیث دوسری سندوں سے عمرہ کے واسطہ سے عائشہ رضی الله عنہا سے مرفوعاً آئی ہے ، جب کہ بعض لوگوں نے اسے عمرہ کے واسطہ سے عائشہ رضی الله عنہا سے موقوفاً روایت کیا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- یہ حدیث دوسری سندوں سے عمرہ کے واسطہ سے عائشہ رضی الله عنہا سے مرفوعاً آئی ہے ، جب کہ بعض لوگوں نے اسے عمرہ کے واسطہ سے عائشہ رضی الله عنہا سے موقوفاً روایت کیا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: موجودہ وزن کے اعتبار سے ایک دینار کا وزن تقریباً سوا چار گرام سونا ہے۔
حدیث نمبر: 1446
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ : " قَطَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مِجَنٍّ قِيمَتُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ " , قَالَ : وَفِي الْبَاب , عَنْ سَعْدٍ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , وَابْنِ عَبَّاسٍ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , وَأَيْمَنَ , قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ , أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ : قَطَعَ فِي خَمْسَةِ دَرَاهِمَ , وَرُوِي عَنْ عُثْمَانَ , وَعَلِيٍّ , أَنَّهُمَا : قَطَعَا فِي رُبُعِ دِينَارٍ , وَرُوِي عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَأَبِي سَعِيدٍ , أَنَّهُمَا قَالَا : تُقْطَعُ الْيَدُ فِي خَمْسَةِ دَرَاهِمَ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ فُقَهَاءِ التَّابِعِينَ , وَهُوَ قَوْلُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ , وَالشَّافِعِيِّ , وَأَحْمَدَ , وَإِسْحَاق , رَأَوْا الْقَطْعَ فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا , وَقَدْ رُوِيَ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ , أَنَّهُ قَالَ : لَا قَطْعَ إِلَّا فِي دِينَارٍ , أَوْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ , وَهُوَ حَدِيثٌ مُرْسَلٌ , رَوَاهُ الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ , وَالْقَاسِمُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ ابْنِ مَسْعُودٍ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ , وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ , وَأَهْلِ الْكُوفَةِ , قَالُوا : لَا قَطْعَ فِي أَقَلَّ مِنْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ , وَرُوِي عَنْ عَلِيٍّ , أَنَّهُ قَالَ : لَا قَطْعَ فِي أَقَلَّ مِنْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ , وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال کی چوری پر ہاتھ کاٹا جس کی قیمت تین درہم ۱؎ تھی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں سعد ، عبداللہ بن عمرو ، ابن عباس ، ابوہریرہ اور ایمن رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- صحابہ میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، ان میں ابوبکر رضی الله عنہ بھی شامل ہیں ، انہوں نے پانچ درہم کی چوری پر ہاتھ کاٹا ،
۴- عثمان اور علی رضی الله عنہما سے مروی ہے کہ ان لوگوں نے چوتھائی دینار کی چوری پر ہاتھ کاٹا ،
۵- ابوہریرہ اور ابو سعید خدری رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ پانچ درہم کی چوری پر ہاتھ کاٹا جائے گا ،
۶- بعض فقہائے تابعین کا اسی پر عمل ہے ، مالک بن انس ، شافعی ، احمد ، اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے ، یہ لوگ کہتے ہیں : چوتھائی دینار اور اس سے زیادہ کی چوری پر ہاتھ کاٹا جائے گا ،
۷- اور ابن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک دینار یا دس درہم کی چوری پر ہی ہاتھ کاٹا جائے گا ، لیکن یہ مرسل ( یعنی منقطع ) حدیث ہے اسے قاسم بن عبدالرحمٰن نے ابن مسعود رضی الله عنہ سے روایت کیا ہے ، حالانکہ قاسم نے ابن مسعود سے نہیں سنا ہے ، بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، چنانچہ سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے ، یہ لوگ کہتے ہیں : دس درہم سے کم کی چوری پر ہاتھ نہ کاٹا جائے ،
۸- علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ دس درہم سے کم کی چوری پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ، لیکن اس کی سند متصل نہیں ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں سعد ، عبداللہ بن عمرو ، ابن عباس ، ابوہریرہ اور ایمن رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- صحابہ میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، ان میں ابوبکر رضی الله عنہ بھی شامل ہیں ، انہوں نے پانچ درہم کی چوری پر ہاتھ کاٹا ،
۴- عثمان اور علی رضی الله عنہما سے مروی ہے کہ ان لوگوں نے چوتھائی دینار کی چوری پر ہاتھ کاٹا ،
۵- ابوہریرہ اور ابو سعید خدری رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ پانچ درہم کی چوری پر ہاتھ کاٹا جائے گا ،
۶- بعض فقہائے تابعین کا اسی پر عمل ہے ، مالک بن انس ، شافعی ، احمد ، اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے ، یہ لوگ کہتے ہیں : چوتھائی دینار اور اس سے زیادہ کی چوری پر ہاتھ کاٹا جائے گا ،
۷- اور ابن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک دینار یا دس درہم کی چوری پر ہی ہاتھ کاٹا جائے گا ، لیکن یہ مرسل ( یعنی منقطع ) حدیث ہے اسے قاسم بن عبدالرحمٰن نے ابن مسعود رضی الله عنہ سے روایت کیا ہے ، حالانکہ قاسم نے ابن مسعود سے نہیں سنا ہے ، بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، چنانچہ سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے ، یہ لوگ کہتے ہیں : دس درہم سے کم کی چوری پر ہاتھ نہ کاٹا جائے ،
۸- علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ دس درہم سے کم کی چوری پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ، لیکن اس کی سند متصل نہیں ہے ۔
وضاحت:
۱؎: آج کے وزن کے اعتبار سے ایک درہم (چاندی) تقریباً تین گرام کے برابر ہے، معلوم ہوا کہ چوتھائی دینار (سونا): یعنی تین درہم (چاندی) یا اس سے زیادہ کی مالیت کا سامان اگر کوئی چوری کرتا ہے تو اس کے بدلے اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔