حدیث نمبر: 1442
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ مِسْعَرٍ , عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ , عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ الْحَدَّ بِنَعْلَيْنِ أَرْبَعِينَ " . قَالَ مِسْعَرٌ : أَظُنُّهُ فِي الْخَمْرِ , قَالَ : وَفِي الْبَاب , عَنْ عَلِيٍّ , وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , وَالسَّائِبِ , وَابْنِ عَبَّاسٍ , وَعُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ , وَأَبُو الصِّدِّيقِ النَّاجِيُّ اسْمُهُ : بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو , وَيُقَالُ : بَكْرُ بْنُ قَيْسٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حد قائم کرتے ہوئے چالیس جوتیوں کی سزا دی ، مسعر راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے شراب کی حد میں ( آپ نے چالیس جوتیوں کی سزا دی ) ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابوسعید رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے ،
۲- اس باب میں علی ، عبدالرحمٰن بن ازہر ، ابوہریرہ ، سائب ، ابن عباس اور عقبہ بن حارث رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابوسعید رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے ،
۲- اس باب میں علی ، عبدالرحمٰن بن ازہر ، ابوہریرہ ، سائب ، ابن عباس اور عقبہ بن حارث رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
حدیث نمبر: 1443
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , قَال : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ , فَضَرَبَهُ بِجَرِيدَتَيْنِ نَحْوَ الْأَرْبَعِينَ " , وَفَعَلَهُ أَبُو بَكْرٍ , فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ , اسْتَشَارَ النَّاسَ , فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ : كَأَخَفِّ الْحُدُودِ ثَمَانِينَ , فَأَمَرَ بِهِ عُمَرُ , قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ , أَنَّ حَدَّ السَّكْرَانِ ثَمَانُونَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ایسا آدمی لایا گیا جس نے شراب پی تھی ، آپ نے اسے کھجور کی دو چھڑیوں سے چالیس کے قریب مارا ، ابوبکر رضی الله عنہ نے بھی ( اپنے دور خلافت میں ) ایسا ہی کیا ، پھر جب عمر رضی الله عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے اس سلسلے میں لوگوں سے مشورہ کیا ، چنانچہ عبدالرحمٰن بن عوف نے کہا : حدوں میں سب سے ہلکی حد اسی کوڑے ہیں ، چنانچہ عمر نے اسی کا حکم دیا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- انس کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- صحابہ میں سے اہل علم اور دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے کہ شرابی کی حد اسی کوڑے ہیں ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- انس کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- صحابہ میں سے اہل علم اور دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے کہ شرابی کی حد اسی کوڑے ہیں ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس سلسلہ میں صحیح قول یہ ہے کہ شرابی کی حد چالیس کوڑے ہیں، البتہ امام اس سے زائد اسی کوڑے تک کی سزا دے سکتا ہے، لیکن اس کا انحصار حسب ضرورت امام کے اپنے اجتہاد پر ہے۔