حدیث نمبر: 1427
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ : " أَحَقٌّ مَا بَلَغَنِي عَنْكَ ؟ " قَالَ : وَمَا بَلَغَكَ عَنِّي , قَالَ : " بَلَغَنِي أَنَّكَ وَقَعْتَ عَلَى جَارِيَةِ آلِ فُلَانٍ " , قَالَ : نَعَمْ , فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ , فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ . قَالَ : وَفِي الْبَاب , عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ , وَرَوَى شُعْبَةُ، هَذَا الْحَدِيثَ , عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ مُرْسَلًا , وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک رضی الله عنہ سے فرمایا : ” تمہارے بارے میں جو مجھے خبر ملی ہے کیا وہ صحیح ہے ؟ “ ماعز رضی الله عنہ نے کہا : میرے بارے میں آپ کو کیا خبر ملی ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” مجھے خبر ملی ہے کہ تم نے فلاں قبیلے کی لونڈی کے ساتھ زنا کیا ہے ؟ “ انہوں نے کہا : ہاں ، پھر انہوں نے چار مرتبہ اقرار کیا ، تو آپ نے حکم دیا ، تو انہیں رجم کر دیا گیا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن ہے ،
۲- اس حدیث کو شعبہ نے سماک بن حرب سے ، انہوں نے سعید بن جبیر سے مرسلاً روایت کیا ہے ، انہوں نے اس سند میں ابن عباس کا ذکر نہیں کیا ہے ،
۳- اس باب میں سائب بن یزید سے بھی روایت ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن ہے ،
۲- اس حدیث کو شعبہ نے سماک بن حرب سے ، انہوں نے سعید بن جبیر سے مرسلاً روایت کیا ہے ، انہوں نے اس سند میں ابن عباس کا ذکر نہیں کیا ہے ،
۳- اس باب میں سائب بن یزید سے بھی روایت ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی مجرم اگر اپنے گناہ کا خود اقرار کر رہا ہو تو اس کے سامنے ایسی باتیں رکھنا جن کی وجہ سے اس پر حد واجب نہ ہو۔