کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: مسلمان کے عیب پر پردہ ڈالنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1425
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا , نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الْآخِرَةِ , وَمَنْ سَتَرَ عَلَى مُسْلِمٍ , سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ , وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب , عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ , وَابْنِ عُمَرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ , هَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ رِوَايَةِ أَبِي عَوَانَةَ , وَرَوَى أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ الْأَعْمَشِ , قَالَ : حُدِّثْتُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ , وَكَأَنَّ هَذَا أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ , حَدَّثَنَا بِذَلِكَ عُبَيْدُ بْنُ أَسْبَاطَ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ الْأَعْمَشِ , بِهَذَا الْحَدِيثِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کسی مومن سے دنیا کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کی اللہ اس کے آخرت کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کرے گا ، اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی تو اللہ دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا ، اللہ بندے کی مدد میں لگا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ،
۲- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث کو اسی طرح کئی لوگوں نے بطریق : «الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» ، اور اسباط بن محمد نے اعمش سے روایت کی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ابوصالح کے واسطہ سے بیان کیا گیا ہے ، انہوں نے ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے ،
۳- ہم سے اسے عبید بن اسباط بن محمد نے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے اعمش کے واسطہ سے یہ حدیث بیان کی ،
۴- اس باب میں عقبہ بن عامر اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1425
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (225)
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الذکر 11 (2299) ، سنن ابی داود/ الأدب 68 (4946) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة 17 (225) ، والحدود 5 (2544) ، ویأتي عند المؤلف فی البر والصلة 19 (1930) ، ( تحفة الأشراف : 12500) ، و مسند احمد (2/252) ، سنن الدارمی/المقدمة 32 (360) (صحیح)»
حدیث نمبر: 1426
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ عُقَيْلٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ , وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ , كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ , وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً , فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ , وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا , سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ۱؎ ، نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اس کی مدد چھوڑتا ہے ، اور جو اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں لگا ہو اللہ اس کی حاجت پوری کرنے میں لگا ہوتا ہے ، جو اپنے کسی مسلمان کی پریشانی دور کرتا ہے اللہ اس کی وجہ سے اس سے قیامت کی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دور کرے گا ، اور جو کسی مسلمان کے عیب پر پردہ ڈالے گا اللہ قیامت کے دن اس کے عیب پر پردہ ڈالے گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔
وضاحت:
۱؎: اللہ تعالیٰ کے فرمان: «إنما المؤمنون إخوة» (الحجرات: ۱۰) کا بھی یہی مفہوم ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1426
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الصحيحة (504)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/المظالم 3 (2442) ، والإکراہ 7 (6951) ، صحیح مسلم/البر والصلة 15 (2508) ، ( تحفة الأشراف : 6877) (صحیح)»