حدیث نمبر: 1424
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ أَبُو عَمْرٍو الْبَصْرِيُّ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زِيَادٍ الدِّمَشْقِيُّ , عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ادْرَءُوا الْحُدُودَ عَنِ الْمُسْلِمِينَ مَا اسْتَطَعْتُمْ , فَإِنْ كَانَ لَهُ مَخْرَجٌ فَخَلُّوا سَبِيلَهُ , فَإِنَّ الْإِمَامَ أَنْ يُخْطِئَ فِي الْعَفْوِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يُخْطِئَ فِي الْعُقُوبَةِ " . حَدَّثَنَا هَنَّادٌ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادٍ , نَحْوَ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ رَبِيعَةَ , وَلَمْ يَرْفَعْهُ , قَالَ : وَفِي الْبَاب , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ عَائِشَةَ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ رَبِيعَةَ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادٍ الدِّمَشْقِيِّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَرَوَاهُ وَكِيعٌ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادٍ , نَحْوَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ , وَرِوَايَةُ وَكِيعٍ أَصَحُّ , وَقَدْ رُوِيَ نَحْوُ هَذَا عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُمْ قَالُوا مِثْلَ ذَلِكَ , وَيَزِيدُ بْنُ زِيَادٍ الدِّمَشْقِيُّ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ , وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْكُوفِيُّ , أَثْبَتُ مِنْ هَذَا وَأَقْدَمُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جہاں تک تم سے ہو سکے مسلمانوں سے حدود کو دفع کرو ، اگر مجرم کے بچ نکلنے کی کوئی صورت ہو تو اسے چھوڑ دو ، کیونکہ مجرم کو معاف کر دینے میں امام کا غلطی کرنا اسے سزا دینے میں غلطی کرنے سے کہیں بہتر ہے ۔ اس سند سے وکیع نے یزید بن زیاد سے محمد بن ربیعہ کی حدیث کی طرح بیان کیا ، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث کو ہم مرفوع صرف بطریق : «محمد بن ربيعة عن يزيد بن زياد الدمشقي عن الزهري عن عروة عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم» ہی جانتے ہیں ،
۲- اسے وکیع نے بھی یزید بن زیاد سے اسی طرح روایت کیا ہے ، لیکن یہ مرفوع نہیں ہے ، اور وکیع کی روایت زیادہ صحیح ہے ،
۳- یزید بن زیاد دمشقی حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں ، اور یزید بن ابوزیاد کوفی ان سے زیادہ اثبت اور اقدم ہیں ،
۴- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی صحابہ سے اسی طرح مروی ہے ، ان تمام لوگوں نے ایسا ہی کہا ہے ،
۵- اس باب میں ابوہریرہ اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث کو ہم مرفوع صرف بطریق : «محمد بن ربيعة عن يزيد بن زياد الدمشقي عن الزهري عن عروة عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم» ہی جانتے ہیں ،
۲- اسے وکیع نے بھی یزید بن زیاد سے اسی طرح روایت کیا ہے ، لیکن یہ مرفوع نہیں ہے ، اور وکیع کی روایت زیادہ صحیح ہے ،
۳- یزید بن زیاد دمشقی حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں ، اور یزید بن ابوزیاد کوفی ان سے زیادہ اثبت اور اقدم ہیں ،
۴- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی صحابہ سے اسی طرح مروی ہے ، ان تمام لوگوں نے ایسا ہی کہا ہے ،
۵- اس باب میں ابوہریرہ اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔