حدیث نمبر: 1306
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا ، أَوْ وَضَعَ لَهُ أَظَلَّهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَحْتَ ظِلِّ عَرْشِهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ أَبِي الْيَسَرِ ، وَأَبِي قَتَادَةَ ، وَحُذَيْفَةَ ، وَابْنِ مَسْعُودٍ ، وَعُبَادَةَ ، وَجَابِرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص کسی تنگ دست ( قرض دار ) کو مہلت دے یا اس کا کچھ قرض معاف کر دے ، تو اللہ اسے قیامت کے دن اپنے عرش کے سایہ کے نیچے جگہ دے گا جس دن اس کے سایہ کے علاوہ کوئی اور سایہ نہ ہو گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ،
۲- اس باب میں ابویسر ( کعب بن عمرو ) ، ابوقتادہ ، حذیفہ ، ابن مسعود ، عبادہ اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ،
۲- اس باب میں ابویسر ( کعب بن عمرو ) ، ابوقتادہ ، حذیفہ ، ابن مسعود ، عبادہ اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
حدیث نمبر: 1307
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حُوسِبَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ مِنَ الْخَيْرِ شَيْءٌ ، إِلَّا أَنَّهُ كَانَ رَجُلًا مُوسِرًا ، وَكَانَ يُخَالِطُ النَّاسَ ، وَكَانَ يَأْمُرُ غِلْمَانَهُ ، أَنْ يَتَجَاوَزُوا عَنِ الْمُعْسِرِ ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : نَحْنُ أَحَقُّ بِذَلِكَ مِنْهُ تَجَاوَزُوا عَنْهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَأَبُو الْيَسَرِ كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابومسعود انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم سے پہلی امتوں میں سے ایک آدمی کا حساب ( اس کی موت کے بعد ) لیا گیا ، تو اس کے پاس کوئی نیکی نہیں ملی ، سوائے اس کے کہ وہ ایک مالدار آدمی تھا ، لوگوں سے لین دین کرتا تھا اور اپنے خادموں کو حکم دیتا تھا کہ ( تقاضے کے وقت ) تنگ دست سے درگزر کریں ، تو اللہ تعالیٰ نے ( فرشتوں سے ) فرمایا : ہم اس سے زیادہ اس کے ( درگزر کے ) حقدار ہیں ، تم لوگ اسے معاف کر دو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔