حدیث نمبر: 1305
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ : جَلَبْتُ أَنَا وَمَخْرَفَةُ الْعَبْدِيُّ بَزًّا مِنْ هَجَرَ ، فَجَاءَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَاوَمَنَا بِسَرَاوِيلَ وَعِنْدِي وَزَّانٌ يَزِنُ بِالْأَجْرِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِلْوَزَّانِ زِنْ وَأَرْجِحْ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ جَابِرٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ سُوَيْدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَأَهْلُ الْعِلْمِ يَسْتَحِبُّونَ الرُّجْحَانَ فِي الْوَزْنِ ، وَرَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنْ سِمَاكٍ، فَقَالَ : عَنْ أَبِي صَفْوَانَ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سوید بن قیس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں اور مخرمہ عبدی دونوں مقام ہجر سے ایک کپڑا لے آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ نے ہم سے ایک پائجامے کا مول بھاؤ کیا ۔ میرے پاس ایک تولنے ولا تھا جو اجرت لے کر تولتا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تولنے والے سے فرمایا : ” جھکا کر تول “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- سوید رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اہل علم جھکا کر تولنے کو مستحب سمجھتے ہیں ،
۳- اس باب میں جابر اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۴- اور شعبہ نے بھی اس حدیث کو سماک سے روایت کیا ہے ، لیکن انہوں نے «عن سوید بن قیس» کی جگہ «عن ابی صفوان» کہا ہے پھر آگے حدیث ذکر کی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- سوید رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اہل علم جھکا کر تولنے کو مستحب سمجھتے ہیں ،
۳- اس باب میں جابر اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۴- اور شعبہ نے بھی اس حدیث کو سماک سے روایت کیا ہے ، لیکن انہوں نے «عن سوید بن قیس» کی جگہ «عن ابی صفوان» کہا ہے پھر آگے حدیث ذکر کی ہے ۔