کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: مردار کی کھالوں اور بتوں کے بیچنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1297
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِمَكَّةَ ، يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ ، وَالْمَيْتَةِ ، وَالْخِنْزِيرِ ، وَالْأَصْنَامِ " ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ ؟ فَإِنَّهُ يُطْلَى بِهَا السُّفُنُ ، وَيُدْهَنُ بِهَا الْجُلُودُ ، وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ ، قَالَ : " لَا ، هُوَ حَرَامٌ " ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ : " قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ ، إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْهِمُ الشُّحُومَ ، فَأَجْمَلُوهُ ، ثُمَّ بَاعُوهُ ، فَأَكَلُوا ثَمَنَهُ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ عُمَرَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` انہوں نے فتح مکہ کے سال مکہ کے اندر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” اللہ اور اس کے رسول نے شراب ، مردار ، خنزیر اور بتوں کی بیع کو حرام قرار دیا ہے “ ، عرض کیا گیا ، اللہ کے رسول ! مجھے مردار کی چربی کے بارے میں بتائیے ، اسے کشتیوں پہ ملا جاتا ہے ، چمڑوں پہ لگایا جاتا ہے ، اور لوگ اس سے چراغ جلاتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” نہیں ، یہ جائز نہیں ، یہ حرام ہے “ ، پھر آپ نے اسی وقت فرمایا : ” یہود پر اللہ کی مار ہو ، اللہ نے ان کے لیے چربی حرام قرار دے دی ، تو انہوں نے اس کو پگھلایا پھر اسے بیچا اور اس کی قیمت کھائی “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- جابر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں عمر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1297
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (2167)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/البیوع 112 (2236) ، والمغازي 51 (4296) ، وتفسیر سورة الأنعام 6 (4633) ، صحیح مسلم/المساقاة 13 (1581) ، سنن ابی داود/ البیوع 66 (2486) ، سنن النسائی/الفرع والعتیرة 8 (4267) ، والبیوع 93 (4673) ، سنن ابن ماجہ/التجارات 11 (2167) ، ( تحفة الأشراف : 2494) ، و مسند احمد (3/324) ، 326، 370) (صحیح)»