حدیث نمبر: 1287
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ دَخَلَ حَائِطًا فَلْيَأْكُلْ ، وَلَا يَتَّخِذْ خُبْنَةً " . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، وَعَبَّادِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، وَرَافِعِ بْنِ عَمْرٍو ، وَعُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، إِلَّا مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَلِيمِ ، وَقَدْ رَخَّصَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ لِابْنِ السَّبِيلِ فِي أَكْلِ الثِّمَارِ ، وَكَرِهَهُ بَعْضُهُمْ إِلَّا بِالثَّمَنِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص کسی باغ میں داخل ہو تو ( پھل ) کھائے ، کپڑوں میں باندھ کر نہ لے جائے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث غریب ہے ۔ ہم اسے اس طریق سے صرف یحییٰ بن سلیم ہی کی روایت سے جانتے ہیں ،
۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو ، عباد بن شرحبیل ، رافع بن عمرو ، عمیر مولی آبی اللحم اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- بعض اہل علم نے راہ گیر کے لیے پھل کھانے کی رخصت دی ہے ۔ اور بعض نے اسے ناجائز کہا ہے ، الا یہ کہ قیمت ادا کر کے ہو ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث غریب ہے ۔ ہم اسے اس طریق سے صرف یحییٰ بن سلیم ہی کی روایت سے جانتے ہیں ،
۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو ، عباد بن شرحبیل ، رافع بن عمرو ، عمیر مولی آبی اللحم اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- بعض اہل علم نے راہ گیر کے لیے پھل کھانے کی رخصت دی ہے ۔ اور بعض نے اسے ناجائز کہا ہے ، الا یہ کہ قیمت ادا کر کے ہو ۔
حدیث نمبر: 1288
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْخُزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ : كُنْتُ أَرْمِي نَخْلَ الْأَنْصَارِ ، فَأَخَذُونِي ، فَذَهَبُوا بِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا رَافِعُ ، لِمَ تَرْمِي نَخْلَهُمْ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْجُوعُ ، قَالَ : " لَا تَرْمِ ، وَكُلْ مَا وَقَعَ أَشْبَعَكَ اللَّهُ وَأَرْوَاكَ " . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´رافع بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` میں انصار کے کھجور کے درختوں پر پتھر مارتا تھا ، ان لوگوں نے مجھے پکڑ لیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے آپ نے پوچھا : ” رافع ! تم ان کے کھجور کے درختوں پر پتھر کیوں مارتے ہو ؟ “ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! بھوک کی وجہ سے ، آپ نے فرمایا : ” پتھر مت مارو ، جو خودبخود گر جائے اسے کھاؤ اللہ تمہیں آسودہ اور سیراب کرے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن غریب ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن غریب ہے ۔
حدیث نمبر: 1289
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ ، فَقَالَ : " مَنْ أَصَابَ مِنْهُ مِنْ ذِي حَاجَةٍ غَيْرَ مُتَّخِذٍ خُبْنَةً فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لٹکے ہوئے پھل کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : ” جو ضرورت مند اس میں سے ( ضرورت کے مطابق ) لے لے اور کپڑے میں جمع کرنے والا نہ ہو تو اس پر کوئی مواخذہ نہیں ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن ہے ۔