کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: گانے والی لونڈی کی بیع کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1282
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَبِيعُوا الْقَيْنَاتِ ، وَلَا تَشْتَرُوهُنَّ ، وَلَا تُعَلِّمُوهُنَّ ، وَلَا خَيْرَ فِي تِجَارَةٍ فِيهِنَّ ، وَثَمَنُهُنَّ حَرَامٌ ". فِي مِثْلِ هَذَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ سورة لقمان آية 6 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِثْلَ هَذَا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ وَضَعَّفَهُ وَهُوَ شَامِيٌّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” گانے والی لونڈیوں کو نہ بیچو اور نہ انہیں خریدو ، اور نہ انہیں ( گانا ) سکھاؤ ۱؎ ، ان کی تجارت میں خیر و برکت نہیں ہے اور ان کی قیمت حرام ہے ۔ اور اسی جیسی چیزوں کے بارے میں یہ آیت اتری ہے : «ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله» ” اور بعض لوگ ایسے ہیں جو لغو باتوں کو خرید لیتے ہیں تاکہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہکائیں “ ( لقمان : ۶ ) “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابوامامہ کی حدیث کو ہم اس طرح صرف اسی طریق سے جانتے ہیں ، اور بعض اہل علم نے علی بن یزید کے بارے میں کلام کیا ہے اور ان کی تضعیف کی ہے ۔ اور یہ شام کے رہنے والے ہیں ،
۲- اس باب میں عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔
وضاحت:
۱؎: کیونکہ یہ فسق اور گناہ کے کاموں کی طرف لے جاتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1282
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، ابن ماجة (2168) , شیخ زبیر علی زئی: (1282) إسناده ضعيف /يأتي :3195, على بن يزيد الألھاني (تق:4817) وتلميذه عبيدالله بن زحر: ضعيف (د 3293) وللحديث طريق ضعيف عند ابن ماجه (2168)
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/التجارات 11 (2168) ، ( تحفة الأشراف : 4898) (ضعیف) (سند میں عبیداللہ بن زحر اور علی بن یزید بن جدعان دونوں ضعیف راوی ہیں، لیکن ابن ماجہ کی سند حسن درجے کی ہے)»