کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: ضرورت سے زائد پانی کے بیچنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1271
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ عَبْدٍ الْمُزَنِيِّ، قَالَ : " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْمَاءِ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ جَابِرٍ ، وَبُهَيْسَةَ ، عَنْ أَبِيهَا ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَعَائِشَةَ ، وَأَنَسٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ إِيَاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ ، أَنَّهُمْ كَرِهُوا بَيْعَ الْمَاءِ ، وَهُوَ قَوْلُ : ابْنِ الْمُبَارَكِ ، وَالشَّافِعِيِّ ، وَأَحْمَدَ ، وَإِسْحَاق ، وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي بَيْعِ الْمَاءِ مِنْهُمْ : الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ایاس بن عبد مزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی بیچنے سے منع فرمایا ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ایاس کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں جابر ، بہیسہ ، بہیسہ کے باپ ، ابوہریرہ ، عائشہ ، انس اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، ان لوگوں نے پانی بیچنے کو ناجائز کہا ہے ، یہی ابن مبارک شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے ،
۴- اور بعض اہل علم نے پانی بیچنے کی اجازت دی ہے ، جن میں حسن بصری بھی شامل ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: اس سے مراد نہر و چشمے وغیرہ کا پانی ہے جو کسی کی ذاتی ملکیت میں نہ ہو اور اگر پانی پر کسی طرح کا خرچ آیا ہو تو ایسے پانی کا بیچنا منع نہیں ہے مثلاً راستوں میں ٹھنڈا پانی یا مینرل واٹر وغیرہ بیچنا جائز ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1271
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (2476)
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ البیوع 63 (3478) ، سنن النسائی/البیوع 88 (4666) ، سنن ابن ماجہ/الرہون 18 (الأحکام 79 (2467) ، ( تحفة الأشراف : 1747) ، و مسند احمد (3/317) ، وسنن الدارمی/البیوع 69 (2654) (صحیح)»
حدیث نمبر: 1272
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلَأُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَأَبُو الْمِنْهَالِ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُطْعِمٍ كُوفِيٌّ ، وَهُوَ الَّذِي رَوَى عَنْهُ حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، وَأَبُو الْمِنْهَالِ سَيَّارُ بْنُ سَلَامَةَ بَصْرِيٌّ ، صَاحِبُ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ضرورت سے زائد پانی سے نہ روکا جائے کہ اس کے سبب گھاس سے روک دیا جائے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یہ سوچ کر دوسروں کے جانوروں کو فاضل پانی پلانے سے نہ روکا جائے کہ جب جانوروں کو پانی پلانے کو لوگ نہ پائیں گے تو جانور ادھر نہ لائیں گے، اس طرح گھاس ان کے جانوروں کے لیے بچی رہے گی، یہ کھلی ہوئی خود غرضی ہے جو اسلام کو پسند نہیں۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1272
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (2478)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الشرب والمساقاة 2 (2353) ، صحیح مسلم/البیوع 29 (المساقاة 8) (1566) ، سنن ابی داود/ البیوع 62 (3473) ، سنن ابن ماجہ/الأحکام 19 (2428) ، ( تحفة الأشراف : 1398) ، وط/الأقضیة 25 (29) و مسند احمد (2/244، 273، 309) ، 482، 494، 500) (صحیح)»