کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: سابقہ باب سے متعلق ایک اور باب۔
حدیث نمبر: 1257
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَعَثَ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ يَشْتَرِي لَهُ أُضْحِيَّةً بِدِينَارٍ ، فَاشْتَرَى أُضْحِيَّةً ، فَأُرْبِحَ فِيهَا دِينَارًا ، فَاشْتَرَى أُخْرَى مَكَانَهَا ، فَجَاءَ بِالْأُضْحِيَّةِ وَالدِّينَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " ضَحِّ بِالشَّاةِ ، وَتَصَدَّقْ بِالدِّينَار " . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ لَمْ يَسْمَعْ عِنْدِي مِنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حکیم بن حزام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک دینار میں قربانی کا جانور خریدنے کے لیے بھیجا ، تو انہوں نے قربانی کا ایک جانور خریدا ( پھر اسے دو دینار میں بیچ دیا ) ، اس میں انہیں ایک دینار کا فائدہ ہوا ، پھر انہوں نے اس کی جگہ ایک دینار میں دوسرا جانور خریدا ، قربانی کا جانور اور ایک دینار لے کر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، تو آپ نے فرمایا : ” بکری کی قربانی کر دو اور دینار کو صدقہ کر دو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
حکیم بن حزام کی حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں ، اور میرے نزدیک جبیب بن ابی ثابت کا سماع حکیم بن حزام سے ثابت نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1257
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف أحاديث البيوع , شیخ زبیر علی زئی: (1257) إسناده ضعيف / د 3386, حبيب بن أبى ثابت عنعن (تقدم:241) وھو ” شيخ من أھل المدينة “ فى رواية أبى داود (3386)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 3423) (ضعیف) (مولف نے ضعف کی وجہ بیان کر سنن الدارمی/ ہے، یعنی حبیب کا سماع حکیم بن حزام سے آپ کے نزدیک ثابت نہیں ہے اس لیے سند میں انقطاع کی وجہ سے یہ ضعیف ہے)»
حدیث نمبر: 1258
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا هَارُونُ الْأَعْوَرُ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ الْخِرِّيتِ، عَنْ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ، قَالَ : دَفَعَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا لِأَشْتَرِيَ لَهُ شَاةً ، فَاشْتَرَيْتُ لَهُ شَاتَيْنِ ، فَبِعْتُ إِحْدَاهُمَا بِدِينَارٍ ، وَجِئْتُ بِالشَّاةِ وَالدِّينَارِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ لَهُ مَا كَانَ مِنْ أَمْرِهِ ، فَقَالَ لَهُ : " بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي صَفْقَةِ يَمِينِكَ " ، فَكَانَ يَخْرُجُ بَعْدَ ذَلِكَ إِلَى كُنَاسَةِ الْكُوفَةِ ، فَيَرْبَحُ الرِّبْحَ الْعَظِيمَ فَكَانَ مِنْ أَكْثَرِ أَهْلِ الْكُوفَةِ مَالًا . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ : حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ خِرِّيتٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، عَنْ أَبِي لَبِيدٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا الْحَدِيثِ ، وَقَالُوا بِهِ : وَهُوَ قَوْلُ : أَحْمَدَ ، وَإِسْحَاق ، وَلَمْ يَأْخُذْ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ بِهَذَا الْحَدِيثِ مِنْهُمْ : الشَّافِعِيُّ ، وَسَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ أَخُو حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، وَأَبُو لَبِيدٍ اسْمُهُ لِمَازَةُ بْنُ زَبَّارٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عروہ بارقی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری خریدنے کے لیے مجھے ایک دینار دیا ، تو میں نے اس سے دو بکریاں خریدیں ، پھر ان میں سے ایک کو ایک دینار میں بیچ دیا اور ایک بکری اور ایک دینار لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور آپ سے تمام معاملہ بیان کیا اور آپ نے فرمایا : ” اللہ تمہیں تمہارے ہاتھ کے سودے میں برکت دے “ ، پھر اس کے بعد وہ کوفہ کے کناسہ کی طرف جاتے اور بہت زیادہ منافع کماتے تھے ۔ چنانچہ وہ کوفہ کے سب سے زیادہ مالدار آدمی بن گئے ۔ مؤلف نے احمد بن سعید دارمی کے طرق سے زبیر بن خریت سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- بعض اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں اور وہ اسی کے قائل ہیں اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے ۔ بعض اہل علم نے اس حدیث کو نہیں لیا ہے ، انہیں لوگوں میں شافعی اور حماد بن زید سعید بن زید کے بھائی ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1258
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الأحاديث........
تخریج حدیث «صحیح البخاری/المناقب 28 (3642) ، سنن ابی داود/ البیوع 28 (3384) ، سنن ابن ماجہ/الأحکام 7 (2402) ، (تحفہ الأشراف: 9898) (صحیح)»