حدیث نمبر: 1237
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ مُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً " . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَجَابِرٍ ، وَابْنِ عُمَرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَسَمَاعُ الْحَسَنِ مِنْ سَمُرَةَ صَحِيحٌ ، هَكَذَا قَالَ : عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ وَغَيْرُهُ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ ، فِي بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً ، وَهُوَ قَوْلُ : سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، وَأَهْلِ الْكُوفَةِ ، وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ ، وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ ، فِي بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً ، وَهُوَ قَوْلُ : الشَّافِعِيِّ ، وَإِسْحَاق .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کو جانور سے ادھار بیچنے سے منع فرمایا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- سمرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- حسن کا سماع سمرہ سے صحیح ہے ۔ علی بن مدینی وغیرہ نے ایسا ہی کہا ہے ،
۳- اس باب میں ابن عباس ، جابر اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۴- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا جانور کو جانور سے ادھار بیچنے کے مسئلہ میں اسی حدیث پر عمل ہے ۔ سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے ۔ احمد بھی اسی کے قائل ہیں ،
۵- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے جانور کے جانور سے ادھار بیچنے کی اجازت دی ہے ۔ اور یہی شافعی ، اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- سمرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- حسن کا سماع سمرہ سے صحیح ہے ۔ علی بن مدینی وغیرہ نے ایسا ہی کہا ہے ،
۳- اس باب میں ابن عباس ، جابر اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۴- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا جانور کو جانور سے ادھار بیچنے کے مسئلہ میں اسی حدیث پر عمل ہے ۔ سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے ۔ احمد بھی اسی کے قائل ہیں ،
۵- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے جانور کے جانور سے ادھار بیچنے کی اجازت دی ہے ۔ اور یہی شافعی ، اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے ۔
حدیث نمبر: 1238
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ الْحَجَّاجِ وَهُوَ ابْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَيَوَانُ اثْنَانِ بِوَاحِدٍ لَا يَصْلُحُ نَسِيئًا ، وَلَا بَأْسَ بِهِ يَدًا بِيَدٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دو جانور کو ایک جانوروں سے ادھار بیچنا درست نہیں ہے ، ہاتھوں ہاتھ ( نقد ) بیچنے میں کوئی حرج نہیں ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔