کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: محاقلہ اور مزابنہ کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1224
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُحَاقَلَةِ ، وَالْمُزَابَنَةِ " ، قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، وَسَعْدٍ ، وَجَابِرٍ ، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، وَأَبِي سَعِيدٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَالْمُحَاقَلَةُ بَيْعُ الزَّرْعِ بِالْحِنْطَةِ ، وَالْمُزَابَنَةُ بَيْعُ الثَّمَرِ عَلَى رُءُوسِ النَّخْلِ بِالتَّمْرِ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ كَرِهُوا بَيْعَ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں ابن عمر ، ابن عباس ، زید بن ثابت ، سعد ، جابر ، رافع بن خدیج اور ابوسعید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- بالیوں میں کھڑی کھیتی کو گیہوں سے بیچنے کو محاقلہ کہتے ہیں ، اور درخت پر لگے ہوئی کھجور توڑی گئی کھجور سے بیچنے کو مزابنہ کہتے ہیں ،
۴- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔ یہ لوگ محاقلہ اور مزابنہ کو مکروہ سمجھتے ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1224
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح أحاديث البيوع، الإرواء (2354)
تخریج حدیث «صحیح مسلم/البیوع 17 (1545) ، ( تحفة الأشراف : 12768) ، مسند احمد (2/419) (صحیح) وأخرجہ کل من: سنن النسائی/المزارعة 2 (3915) ، مسند احمد (2/392، 484) من غیر ہذا الوجہ۔»
حدیث نمبر: 1225
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّ زَيْدًا أَبَا عَيَّاشٍ، سَأَلَ سَعْدًا ، عَنِ الْبَيْضَاءِ بِالسُّلْتِ ، فَقَالَ : أَيُّهُمَا أَفْضَلُ ؟ ، قَالَ الْبَيْضَاءُ : فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ ، وَقَالَ سَعْدٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ عَنْ اشْتِرَاءِ التَّمْرِ بِالرُّطَبِ ؟ ، فَقَالَ : " لِمَنْ حَوْلَهُ ، أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ ؟ " ، قَالُوا : نَعَمْ ، فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ . حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ زَيْدٍ أَبِي عَيَّاشٍ، قَالَ : سَأَلْنَا سَعْدًا فَذَكَرَ نَحْوَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ ، وَهُوَ قَوْلُ : الشَّافِعِيِّ ، وَأَصْحَابِنَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن یزید سے روایت ہے کہ` ابوعیاش زید نے سعد رضی الله عنہ سے گیہوں کو چھلکا اتارے ہوئے جو سے بیچنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے پوچھا : ان دونوں میں کون افضل ہے ؟ انہوں نے کہا : گیہوں ، تو انہوں نے اس سے منع فرمایا ۔ اور سعد رضی الله عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ سے تر کھجور سے خشک کھجور خریدنے کا مسئلہ پوچھا جا رہا تھا ۔ تو آپ نے قریب بیٹھے لوگوں سے پوچھا : ” کیا تر کھجور خشک ہونے پر کم ہو جائے گا ؟ ۱؎ “ لوگوں نے کہا ہاں ( کم ہو جائے گا ) ، تو آپ نے اس سے منع فرمایا ۔ مؤلف نے بسند «وكيع عن مالك» اسی طرح کی حدیث بیان کی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، اور یہی شافعی اور ہمارے اصحاب کا بھی قول ہے ۔
وضاحت:
۱؎: اس سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہوا کہ مفتی کے علم و تجربہ میں اگر کوئی بات پہلے سے نہ ہو تو فتوی دینے سے پہلے وہ مسئلہ کے بارے میں تحقیق کر لے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1225
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (2264)
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ البیوع 18 (3359) ، سنن النسائی/البیوع 36 (4549) ، سنن ابن ماجہ/التجارات 45 (2464) ، ( تحفة الأشراف : 3854) ، موطا امام مالک/البیوع 12 (22) ، مسند احمد (1/115، 171) (صحیح)»