حدیث نمبر: 1216
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ لَيْثٍ صَاحِبُ الْكَرَابِيسِيِّ الْبَصْرِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ : قَالَ لِي الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ : أَلَا أُقْرِئُكَ كِتَابًا كَتَبَهُ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قُلْتُ : بَلَى فَأَخْرَجَ لِي كِتَابًا " هَذَا مَا اشْتَرَى الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ ، مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى مِنْهُ عَبْدًا ، أَوْ أَمَةً ، لَا دَاءَ ، وَلَا غَائِلَةَ ، وَلَا خِبْثَةَ بَيْعَ الْمُسْلِمِ الْمُسْلِمَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبَّادِ بْنِ لَيْثٍ ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْحَدِيثِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالمجید بن وہب کہتے ہیں کہ` مجھ سے عداء بن خالد بن ھوذہ نے کہا : کیا میں تمہیں ایک تحریر نہ پڑھاؤں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے لکھی تھی ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں ، ضرور پڑھائیے ، پھر انہوں نے ایک تحریر نکالی ، ( جس میں لکھا تھا ) ” یہ بیع نامہ ہے ایک ایسی چیز کا جو عداء بن خالد بن ھوذہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے خریدی ہے “ ، انہوں نے آپ سے غلام یا لونڈی کی خریداری اس شرط کے ساتھ کی کہ اس میں نہ کوئی بیماری ہو ، نہ وہ بھگیوڑو ہو اور نہ حرام مال کا ہو ، یہ مسلمان کی مسلمان سے بیع ہے ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف عباد بن لیث کی روایت سے جانتے ہیں ۔ ان سے یہ حدیث محدثین میں سے کئی لوگوں نے روایت کی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف عباد بن لیث کی روایت سے جانتے ہیں ۔ ان سے یہ حدیث محدثین میں سے کئی لوگوں نے روایت کی ہے ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں تحریروں کا رواج عام تھا اور مختلف موضوعات پر احادیث لکھی جاتی تھیں۔