کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: باپ لڑکے سے کہے کہ اپنی بیوی کو طلاق دے دو تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 1189
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنْبَأَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ : كَانَتْ تَحْتِي امْرَأَةٌ أُحِبُّهَا ، وَكَانَ أَبِي يَكْرَهُهَا ، فَأَمَرَنِي أَبِي أَنْ أُطَلِّقَهَا ، فَأَبَيْتُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، طَلِّقْ امْرَأَتَكَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ إِنَّمَا نَعْرِفَهُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` میرے نکاح میں ایک عورت تھی ، میں اس سے محبت کرتا تھا ، اور میرے والد اسے ناپسند کرتے تھے ۔ میرے والد نے مجھے حکم دیا کہ میں اسے طلاق دے دوں ، لیکن میں نے ان کی بات نہیں مانی ۔ پھر میں نے اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا : ” عبداللہ بن عمر ! تم اپنی بیوی کو طلاق دے دو “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ہم اسے صرف ابن ابی ذئب ہی کی روایت سے جانتے ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الطلاق واللعان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1189
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، ابن ماجة (2088)
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الأدب 129 (5138) ، سنن ابن ماجہ/الطلاق 36 (2088) ، ( تحفة الأشراف : 6701) ، مسند احمد (2/42، 53) (حسن)»