کتب حدیث ›
سنن ترمذي › ابواب
› باب: پھوپھی کے نکاح میں ہوتے ہوئے اس کی بھتیجی سے نکاح کرنے اور خالہ کے نکاح میں ہوتے ہوئے اس کی بھانجی سے نکاح کرنے کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1125
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُزَوَّجَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا أَوْ عَلَى خَالَتِهَا " . وَأَبُو حَرِيزٍ اسْمُهُ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُسَيْنٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کسی عورت سے شادی کی جائے اور اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ ( پہلے سے ) نکاح میں ہو ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابوحریز کا نام عبداللہ بن حسین ہے -
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابوحریز کا نام عبداللہ بن حسین ہے -
حدیث نمبر: 1125M
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ ، قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ عَلِيٍّ ، وَابْنِ عُمَرَ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، وَأَبِي سَعِيدٍ ، وَأَبِي أُمَامَةَ ، وَجَابِرٍ ، وَعَائِشَةَ ، وَأَبِي مُوسَى ، وَسَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نصر بن علی نے` بطریق : «عبد الأعلى عن هشام بن حسان عن ابن سيرين عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی کے مثل روایت کی ہے ،
۳- اس باب میں علی ، ابن عمر ، عبداللہ بن عمرو ، ابوسعید ، ابوامامہ ، جابر ، عائشہ ، ابوموسیٰ اور سمرہ بن جندب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
۳- اس باب میں علی ، ابن عمر ، عبداللہ بن عمرو ، ابوسعید ، ابوامامہ ، جابر ، عائشہ ، ابوموسیٰ اور سمرہ بن جندب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
حدیث نمبر: 1126
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا أَوِ الْعَمَّةُ عَلَى ابْنَةِ أَخِيهَا ، أَوِ الْمَرْأَةُ عَلَى خَالَتِهَا أَوِ الْخَالَةُ عَلَى بِنْتِ أُخْتِهَا ، وَلَا تُنْكَحُ الصُّغْرَى عَلَى الْكُبْرَى وَلَا الْكُبْرَى عَلَى الصُّغْرَى " . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا نَعْلَمُ بَيْنَهُمُ اخْتِلَافًا ، أَنَّهُ لَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا أَوْ خَالَتِهَا ، فَإِنْ نَكَحَ امْرَأَةً عَلَى عَمَّتِهَا أَوْ خَالَتِهَا أَوِ الْعَمَّةَ عَلَى بِنْتِ أَخِيهَا فَنِكَاحُ الْأُخْرَى مِنْهُمَا مَفْسُوخٌ ، وَبِهِ يَقُولُ : عَامَّةُ أَهْلِ الْعِلْمِ . قَالَ أَبُو عِيسَى : أَدْرَكَ الشَّعْبِيُّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَرَوَى عَنْهُ ، وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا ، فَقَالَ : صَحِيحٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَرَوَى الشَّعْبِيُّ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ عورت سے نکاح کیا جائے جب کہ اس کی پھوپھی ( پہلے سے ) نکاح میں ہو یا پھوپھی سے نکاح کیا جائے جبکہ اس کی بھتیجی ( پہلے سے ) نکاح میں ہو یا بھانجی سے نکاح کیا جائے جب کہ اس کی خالہ ( پہلے سے ) نکاح میں ہو یا خالہ سے نکاح کیا جائے جب کہ اس کی بھانجی پہلے سے نکاح میں ہو ۔ اور نہ نکاح کیا جائے کسی چھوٹی سے جب کہ اس کی بڑی نکاح میں ہو اور نہ بڑی سے نکاح کیا جائے جب کہ چھوٹی نکاح میں ہو ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابن عباس اور ابوہریرہ رضی الله عنہم کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔ ہمیں ان کے درمیان اس بات میں کسی اختلاف کا علم نہیں کہ آدمی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ بیک وقت کسی عورت کو اس کی پھوپھی کے ساتھ یا اس کی خالہ کے ساتھ نکاح میں رکھے ۔ اگر اس نے کسی عورت سے نکاح کر لیا جب کہ اس کی پھوپھی یا خالہ بھی اس کے نکاح میں ہو یا پھوپھی سے نکاح کر لیا جب کہ اس کی بھتیجی نکاح میں ہو تو ان میں سے جو نکاح بعد میں ہوا ہے ، وہ فسخ ہو گا ، یہی تمام اہل علم کا قول ہے ،
۳- شعبی نے ابوہریرہ کو پایا ہے اور ان سے ( براہ راست ) روایت بھی کی ہے ۔ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : صحیح ہے ،
۴- شعبی نے ابوہریرہ سے ایک شخص کے واسطے سے بھی روایت کی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابن عباس اور ابوہریرہ رضی الله عنہم کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔ ہمیں ان کے درمیان اس بات میں کسی اختلاف کا علم نہیں کہ آدمی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ بیک وقت کسی عورت کو اس کی پھوپھی کے ساتھ یا اس کی خالہ کے ساتھ نکاح میں رکھے ۔ اگر اس نے کسی عورت سے نکاح کر لیا جب کہ اس کی پھوپھی یا خالہ بھی اس کے نکاح میں ہو یا پھوپھی سے نکاح کر لیا جب کہ اس کی بھتیجی نکاح میں ہو تو ان میں سے جو نکاح بعد میں ہوا ہے ، وہ فسخ ہو گا ، یہی تمام اہل علم کا قول ہے ،
۳- شعبی نے ابوہریرہ کو پایا ہے اور ان سے ( براہ راست ) روایت بھی کی ہے ۔ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : صحیح ہے ،
۴- شعبی نے ابوہریرہ سے ایک شخص کے واسطے سے بھی روایت کی ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی خالہ پھوپھی نکاح میں ہو تو اس کی بھانجی یا بھتیجی سے اور بھانجی یا بھتیجی نکاح میں ہو تو اس کی خالہ یا پھوپھی سے نکاح نہ کیا جائے، ہاں اگر ایک مر جائے یا اس کو طلاق دیدے تو دوسری سے شادی کر سکتا ہے۔