حدیث نمبر: 1115
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، " أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَ صَفِيَّةَ وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا " . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ صَفِيَّةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ ، وَهُوَ قَوْلُ : الشَّافِعِيِّ ، وَأَحْمَدَ ، وَإِسْحَاق ، وَكَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ يُجْعَلَ عِتْقُهَا صَدَاقَهَا ، حَتَّى يَجْعَلَ لَهَا مَهْرًا سِوَى الْعِتْقِ ، وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ کو آزاد کیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- انس کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں صفیہ رضی الله عنہا سے بھی حدیث آئی ہے ،
۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔ یہی شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے ،
۴- اور بعض اہل علم نے اس کی آزادی کو اس کا مہر قرار دینے کو مکروہ کہا ہے ، یہاں تک کہ اس کا مہر آزادی کے علاوہ کسی اور چیز کو مقرر کیا جائے ۔ لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- انس کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں صفیہ رضی الله عنہا سے بھی حدیث آئی ہے ،
۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔ یہی شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے ،
۴- اور بعض اہل علم نے اس کی آزادی کو اس کا مہر قرار دینے کو مکروہ کہا ہے ، یہاں تک کہ اس کا مہر آزادی کے علاوہ کسی اور چیز کو مقرر کیا جائے ۔ لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے ۔