کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: یتیم لڑکی کو شادی کرنے پر مجبور کرنے کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 1109
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا ، فَإِنْ صَمَتَتْ فَهُوَ إِذْنُهَا ، وَإِنْ أَبَتْ فَلَا جَوَازَ عَلَيْهَا " . يَعْنِي : إِذَا أَدْرَكَتْ فَرَدَّتْ ، قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، وَابْنِ عُمَرَ ، وَعَائِشَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ ، وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي تَزْوِيجِ الْيَتِيمَةِ ، فَرَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الْيَتِيمَةَ إِذَا زُوِّجَتْ فَالنِّكَاحُ مَوْقُوفٌ حَتَّى تَبْلُغَ ، فَإِذَا بَلَغَتْ فَلَهَا الْخِيَارُ فِي إِجَازَةِ النِّكَاحِ أَوْ فَسْخِهِ ، وَهُوَ قَوْلُ : بَعْضِ التَّابِعِينَ وَغَيْرِهِمْ ، وقَالَ بَعْضُهُمْ : لَا يَجُوزُ نِكَاحُ الْيَتِيمَةِ حَتَّى تَبْلُغَ ، وَلَا يَجُوزُ الْخِيَارُ فِي النِّكَاحِ ، وَهُوَ قَوْلُ : سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، وَالشَّافِعِيِّ ، وَغَيْرِهِمَا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ ، وقَالَ أَحْمَدُ ، وَإِسْحَاق : إِذَا بَلَغَتِ الْيَتِيمَةُ تِسْعَ سَنِينَ فَزُوِّجَتْ فَرَضِيَتْ فَالنِّكَاحُ جَائِزٌ ، وَلَا خِيَارَ لَهَا إِذَا أَدْرَكَتْ ، وَاحْتَجَّا بِحَدِيثِ عَائِشَةَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنَى بِهَا وَهِيَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ " ، وَقَدْ قَالَتْ عَائِشَةُ : إِذَا بَلَغَتِ الْجَارِيَةُ تِسْعَ سِنِينَ فَهِيَ امْرَأَةٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یتیم لڑکی سے اس کی رضا مندی حاصل کی جائے گی ، اگر وہ خاموش رہی تو یہی اس کی رضا مندی ہے ، اور اگر اس نے انکار کیا تو اس پر ( زبردستی کرنے کا ) کوئی جواز نہیں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے ،
۲- اس باب میں ابوموسیٰ ، ابن عمر ، اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- یتیم لڑکی کی شادی کے سلسلے میں اہل علم نے اختلاف کیا ہے ۔ بعض اہل علم کا خیال ہے : یتیم لڑکی کی جب شادی کر دی جائے تو نکاح موقوف رہے گا ۔ یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے ۔ جب وہ بالغ ہو جائے گی ، تو اسے نکاح کو باقی رکھنے یا اسے فسخ کر دینے کا اختیار ہو گا ۔ یہی بعض تابعین اور دیگر علماء کا بھی قول ہے ،
۴- اور بعض کہتے ہیں : یتیم لڑکی کا نکاح جب تک وہ بالغ نہ ہو جائے ، درست نہیں اور نکاح میں «خیار» جائز نہیں ، اور اہل علم میں سے سفیان ثوری ، شافعی وغیرہم کا یہی قول ہے ،
۵- احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ جب یتیم لڑکی نو سال کی ہو جائے اور اس کا نکاح کر دیا جائے ، اور وہ اس پر راضی ہو تو نکاح درست ہے اور بالغ ہونے کے بعد اسے اختیار نہیں ہو گا ۔ ان دونوں نے عائشہ کی اس حدیث سے دلیل لی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کے ساتھ شب زفاف منائی ، تو وہ نو برس کی تھیں ۔ اور عائشہ رضی الله عنہا کا قول ہے کہ لڑکی جب نو برس کی ہو جائے تو وہ عورت ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی بالغ ہونے کے بعد انکار کرنے پر۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب النكاح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1109
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح، الإرواء (1834) ، صحيح أبي داود (1825)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 15045) (حسن صحیح) وأخرجہ کل من: سنن ابی داود/ النکاح 24 (2093) ، سنن النسائی/النکاح 36 (3270) ، مسند احمد (2/259، 475) من غیر ہذا الوجہ۔»