کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: کنواری لڑکی سے شادی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1100
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ : تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَتَزَوَّجْتَ يَا جَابِرُ ؟ " فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَقَالَ : " بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا ؟ " فَقُلْتُ : لَا بَلْ ثَيِّبًا ، فَقَالَ : " هَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ " ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ مَاتَ وَتَرَكَ سَبْعَ بَنَاتٍ أَوْ تِسْعًا ، فَجِئْتُ بِمَنْ يَقُومُ عَلَيْهِنَّ ، قَالَ : فَدَعَا لِي . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، وَكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے ایک عورت سے شادی کی پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو آپ نے پوچھا : ” جابر ! کیا تم نے شادی کی ہے ؟ “ میں نے کہا : جی ہاں کی ہے ، آپ نے فرمایا : ” کسی کنواری سے یا بیوہ سے ؟ “ میں نے کہا : نہیں ، غیر کنواری سے ۔ آپ نے فرمایا : ” کسی ( کنواری ) لڑکی سے شادی کیوں نہیں کی ، تو اس سے کھیلتا اور وہ تجھ سے کھیلتی ؟ “ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ( میرے والد ) عبداللہ کا انتقال ہو گیا ہے ، اور انہوں نے سات یا نو لڑکیاں چھوڑی ہیں ، میں ایسی عورت کو بیاہ کر لایا ہوں جو ان کی دیکھ بھال کر سکے ۔ چنانچہ آپ نے میرے لیے دعا فرمائی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں ابی بن کعب اور کعب بن عجرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب النكاح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1100
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الإرواء (178)
تخریج حدیث «صحیح مسلم/النفقات 12 (5387) ، الدعوات 53 (6387) ، صحیح مسلم/الرضاع 16 (715) سنن النسائی/النکاح 6 (3221) ، ( تحفة الأشراف : 2512) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/البیوع 43 (2097) ، والوکالة 8 (2309) ، والجہاد 113 (2967) ، والمغازي 18 (4052) ، والنکاح 10 (5079) و121 (5245) ، و122 (5247) ، صحیح مسلم/الرضاع (المصدر المذکور) ، سنن ابی داود/ النکاح 3 (2048) ، مسند احمد (3/294، 302، 324، 362، 374، 376) ، سنن الدارمی/النکاح 32 (2262) ، من غیر ہذا الوجہ۔»