کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: آدمی بیوی کے پاس (صحبت کے لیے) آئے تو کون سی دعا پڑھے؟
حدیث نمبر: 1092
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ ، قَالَ : بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا ، فَإِنْ قَضَى اللَّهُ بَيْنَهُمَا وَلَدًا لَمْ يَضُرَّهُ الشَّيْطَانُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس آئے یعنی اس سے صحبت کرنے کا ارادہ کرے اور یہ دعا پڑھے : «بسم الله اللهم جنبنا الشيطان وجنب الشيطان ما رزقتنا» ” اللہ کے نام سے ، اے اللہ ! تو ہمیں شیطان سے محفوظ رکھ اور اسے بھی شیطان سے محفوظ رکھ جو تو ہمیں عطا کرے یعنی ہماری اولاد کو “ ، تو اگر اللہ نے ان کے درمیان اولاد دینے کا فیصلہ کیا ہو گا تو شیطان اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب النكاح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1092
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (1919)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الوضوء 8 (141) ، وبدء الخلق 11 (3283) ، والنکاح 66 (5161) ، والدعوات 55 (6388) ، والتوحید 13 (7396) ، صحیح مسلم/النکاح 18 (1434) ، سنن ابی داود/ النکاح 46 (2161) ، سنن ابن ماجہ/النکاح 27 (1919) ، ( تحفة الأشراف : 6349) ، مسند احمد 1 (320، 243، 283، 286) ، سنن الدارمی/النکاح 29 (2258) (صحیح)»