حدیث نمبر: 1088
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَلْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ الْجُمَحِيِّ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَصْلُ مَا بَيْنَ الْحَرَامِ وَالْحَلَالِ الدُّفُّ وَالصَّوْتُ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَجَابِرٍ ، وَالرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ ، وَأَبُو بَلْجٍ اسْمُهُ : يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَيُقَالُ : ابْنُ سُلَيْمٍ أَيْضًا ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاطِبٍ قَدْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ غُلَامٌ صَغِيرٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´محمد بن حاطب جمحی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حرام اور حلال ( نکاح ) کے درمیان فرق صرف دف بجانے اور اعلان کرنے کا ہے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- محمد بن حاطب کی حدیث حسن ہے ،
۲- محمد بن حاطب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے ، لیکن وہ کم سن بچے تھے ،
۳- اس باب میں ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا ، جابر اور ربیع بنت معوذ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- محمد بن حاطب کی حدیث حسن ہے ،
۲- محمد بن حاطب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے ، لیکن وہ کم سن بچے تھے ،
۳- اس باب میں ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا ، جابر اور ربیع بنت معوذ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نکاح اعلانیہ کیا جانا چاہیئے، خفیہ طور پر چوری چھپے نہیں، اس لیے کہ اعلانیہ نکاح کرنے پر کسی کو میاں بیوی کے تعلقات پر انگلی اٹھانے کا موقع نہیں ملتا۔ عموماً یہی دیکھنے میں آتا ہے کہ غلط نکاح ہی چھپ کر کیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 1089
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ مَيْمُونٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْلِنُوا هَذَا النِّكَاحَ وَاجْعَلُوهُ فِي الْمَسَاجِدِ وَاضْرِبُوا عَلَيْهِ بِالدُّفُوفِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ حَسَنٌ فِي هَذَا الْبَابِ ، وَعِيسَى بْنُ مَيْمُونٍ الْأَنْصَارِيُّ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ ، وَعِيسَى بْنُ مَيْمُونٍ الَّذِي يَرْوِي عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ التَّفْسِيرَ هُوَ ثِقَةٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس نکاح کا اعلان کرو ، اسے مسجدوں میں کرو اور اس پر دف بجاؤ “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- اس باب میں یہ حدیث غریب حسن ہے ،
۲- عیسیٰ بن میمون انصاری حدیث میں ضعیف قرار دیے جاتے ہیں ،
۳- عیسیٰ بن میمون جو ابن ابی نجیح سے تفسیر روایت کرتے ہیں ، ثقہ ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- اس باب میں یہ حدیث غریب حسن ہے ،
۲- عیسیٰ بن میمون انصاری حدیث میں ضعیف قرار دیے جاتے ہیں ،
۳- عیسیٰ بن میمون جو ابن ابی نجیح سے تفسیر روایت کرتے ہیں ، ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 1090
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ ذَكْوَانَ، عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ، قَالَتْ : جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ عَلَيَّ غَدَاةَ بُنِيَ بِي ، فَجَلَسَ عَلَى فِرَاشِي كَمَجْلِسِكَ مِنِّي ، وَجُوَيْرِيَاتٌ لَنَا يَضْرِبْنَ بِدُفُوفِهِنَّ وَيَنْدُبْنَ مَنْ قُتِلَ مِنْ آبَائِي يَوْمَ بَدْرٍ ، إِلَى أَنْ قَالَتْ إِحْدَاهُنَّ : وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْكُتِي عَنْ هَذِهِ وَقُولِي الَّذِي كُنْتِ تَقُولِينَ قَبْلَهَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ربیع بنت معوذ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` جس رات میری شادی اس کی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے ۔ آپ میرے بستر پر ایسے ہی بیٹھے ، جیسے تم ( خالد بن ذکوان ) میرے پاس بیٹھے ہو ۔ اور چھوٹی چھوٹی بچیاں دف بجا رہی تھیں اور جو ہمارے باپ دادا میں سے جنگ بدر میں شہید ہوئے تھے ان کا مرثیہ گا رہی تھیں ، یہاں تک کہ ان میں سے ایک نے کہا : ہمارے درمیان ایک نبی ہے جو ان چیزوں کو جانتا ہے جو کل ہوں گی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” یہ نہ کہہ ۔ وہی کہہ جو پہلے کہہ رہی تھی “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔