کتب حدیث ›
سنن ترمذي › ابواب
› باب: قابل اطمینان دیندار کی طرف سے شادی کا پیغام آنے پر شادی کر دینے کا حکم۔
حدیث نمبر: 1084
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ ابْنِ وَثِيمَةَ النَّصْرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا خَطَبَ إِلَيْكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ وَخُلُقَهُ فَزَوِّجُوهُ ، إِلَّا تَفْعَلُوا تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ عَرِيضٌ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ أَبِي حَاتِمٍ الْمُزَنِيِّ ، وَعَائِشَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ قَدْ خُولِفَ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ، وَرَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا . قَالَ أَبُو عِيسَى : قَالَ مُحَمَّدٌ : وَحَدِيثُ اللَّيْثِ أَشْبَهُ ، وَلَمْ يَعُدَّ حَدِيثَ عَبْدِ الْحَمِيدِ مَحْفُوظًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تمہیں کوئی ایسا شخص شادی کا پیغام دے ، جس کی دین داری اور اخلاق سے تمہیں اطمینان ہو تو اس سے شادی کر دو ۔ اگر ایسا نہیں کرو گے تو زمین میں فتنہ اور فساد عظیم برپا ہو گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی اس روایت میں عبدالحمید بن سلیمان کی مخالفت کی گئی ہے ، اسے لیث بن سعد نے بطریق : «ابن عجلان عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرسلاً ( منقطعاً ) روایت کی ہے ( یعنی : ابن وشیمہ کا ذکر نہیں کیا ہے ) ،
۲- محمد بن اسماعیل بخاری کا کہنا ہے کہ لیث کی حدیث اشبہ ( قریب تر ) ہے ، انہوں ( بخاری ) نے عبدالحمید کی حدیث کو محفوظ شمار نہیں کیا ،
۳- اس باب میں ابوحاتم مزنی اور عائشہ رضی الله عنہما سے احادیث آئی ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی اس روایت میں عبدالحمید بن سلیمان کی مخالفت کی گئی ہے ، اسے لیث بن سعد نے بطریق : «ابن عجلان عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرسلاً ( منقطعاً ) روایت کی ہے ( یعنی : ابن وشیمہ کا ذکر نہیں کیا ہے ) ،
۲- محمد بن اسماعیل بخاری کا کہنا ہے کہ لیث کی حدیث اشبہ ( قریب تر ) ہے ، انہوں ( بخاری ) نے عبدالحمید کی حدیث کو محفوظ شمار نہیں کیا ،
۳- اس باب میں ابوحاتم مزنی اور عائشہ رضی الله عنہما سے احادیث آئی ہیں ۔
حدیث نمبر: 1085
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو السَّوَّاقُ الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، وَسَعِيدٍ ابني عبيد، عَنْ أَبِي حَاتِمٍ الْمُزَنِيِّ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا جَاءَكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ وَخُلُقَهُ فَأَنْكِحُوهُ ، إِلَّا تَفْعَلُوا تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنْ كَانَ فِيهِ ، قَالَ : " إِذَا جَاءَكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ وَخُلُقَهُ فَأَنْكِحُوهُ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَأَبُو حَاتِمٍ الْمُزَنِيُّ لَهُ صُحْبَةٌ ، وَلَا نَعْرِفُ لَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوحاتم مزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے پاس جب کوئی ایسا شخص ( نکاح کا پیغام لے کر ) آئے ، جس کی دین داری اور اخلاق سے تم مطمئن ہو تو اس سے نکاح کر دو ۔ اگر ایسا نہیں کرو گے تو زمین میں فتنہ اور فساد برپا ہو گا ۱؎ لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اگر اس میں کچھ ہو ؟ آپ نے تین بار یہی فرمایا : ” جب تمہارے پاس کوئی ایسا شخص آئے جس کی دین داری اور اخلاق سے تم مطمئن ہو تو اس سے نکاح کر دو ۲؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ،
۲- ابوحاتم مزنی کو شرف صحبت حاصل ہے ، ہم اس کے علاوہ ان کی کوئی حدیث نہیں جانتے جو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہو ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ،
۲- ابوحاتم مزنی کو شرف صحبت حاصل ہے ، ہم اس کے علاوہ ان کی کوئی حدیث نہیں جانتے جو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہو ۔
وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ اگر تم صرف مال یا جاہ والے شخص ہی سے شادی کرو گے تو بہت سے مرد بغیر بیوی کے اور بہت سی عورتیں بغیر شوہر کے رہ جائیں گی جس سے زنا اور حرام کاری عام ہو گی اور ولی کو عار و ندامت کا سامنا کرنا ہو گا جو فتنہ و فساد کے بھڑکنے کا باعث ہو گا۔