کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: شادی کرنے کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان۔
حدیث نمبر: 1080
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ الْحَجَّاجِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي الشِّمَالِ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرْبَعٌ مِنْ سُنَنِ الْمُرْسَلِينَ : الْحَيَاءُ ، وَالتَّعَطُّرُ ، وَالسِّوَاكُ ، وَالنِّكَاحُ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ عُثْمَانَ ، وَثَوْبَانَ ، وَابْنِ مَسْعُودٍ ، وَعَائِشَةَ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، وَأَبِي نَجِيحٍ ، وَجَابِرٍ ، وَعَكَّافٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي أَيُّوبَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” چار باتیں انبیاء و رسل کی سنت میں سے ہیں : حیاء کرنا ، عطر لگانا ، مسواک کرنا اور نکاح کرنا “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے -
وضاحت:
۱؎: یعنی رسولوں نے خود اسے کیا ہے اور لوگوں کو اس کی ترغیب دی ہے، رسولوں کی سنت اسے تغلیباً کہا گیا ہے کیونکہ ان میں کچھ چیزیں ایسی ہیں جنہیں بعض رسولوں نے نہیں کیا ہے مثلاً نوح علیہ السلام نے ختنہ نہیں کرایا اور عیسیٰ علیہ السلام نے شادی نہیں کی۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب النكاح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1080
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، المشكاة (382) ، الإرواء (75) ، الرد على الكتاني ص (12) // ضعيف الجامع الصغير (760) // , شیخ زبیر علی زئی: (1080) إسناده ضعيف, أبوالشمال : مجھول (تق:8161) وللحديث شواھد ضعيفه
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف (3499) ، وانظر: مسند احمد (5/421) (ضعیف) (سند میں ابو الشمال مجہول راوی ہیں، لیکن اس حدیث کے معنی کی تائید دیگر طرق سے موجود ہے)»
حدیث نمبر: 1080M
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ الْحَجَّاجِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي الشِّمَالِ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَ حَدِيثِ حَفْصٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ هُشَيْمٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ ، عَنْ الْحَجَّاجِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ أَبِي الشِّمَالِ ، وَحَدِيثُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، وَعَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ أَصَحُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ہم سے محمود بن خداش بغدادی نے` بطریق : «عن عباد ابن العوام عن الحجاج عن مكحول عن أبي الشمال عن أبي أيوب عن النبي صلى الله عليه وسلم» حفص کی حدیث کی طرح روایت کی ہے ،
۳- یہ حدیث ہشیم ، محمد بن یزید واسطی ، ابومعاویہ اور دیگر کئی لوگوں نے بطریق : «الحجاج عن مكحول عن أبي أيوب» روایت کی ہے اور اس میں ان لوگوں نے ابوالشمال کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ حفص بن غیاث اور عباد بن عوام کی حدیث زیادہ صحیح ہے ،
۴- اس باب میں عثمان ، ثوبان ، ابن مسعود ، عائشہ ، عبداللہ بن عمرو ، ابونجیح ، جابر اور عکاف رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب النكاح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1080M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، المشكاة (382) ، الإرواء (75) ، الرد على الكتاني ص (12) // ضعيف الجامع الصغير (760) //
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح)»
حدیث نمبر: 1081
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَابٌ لَا نَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ ، فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ ، عَلَيْكُمْ بِالْبَاءَةِ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ ، فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ ، فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَاءٌ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عُمَارَةَ نَحْوَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ هَذَا ، وَرَوَى أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَالْمُحَارِبِيُّ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى : كِلَاهُمَا صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ، ہم نوجوان تھے ، ہمارے پاس ( شادی وغیرہ امور میں سے ) کسی چیز کی مقدرت نہ تھی ۔ تو آپ نے فرمایا : ” اے نوجوانوں کی جماعت ! تمہارے اوپر ۱؎ نکاح لازم ہے ، کیونکہ یہ نگاہ کو نیچی کرنے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا ہے ۔ اور جو تم میں سے نکاح کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو اس پر صوم کا اہتمام ضروری ہے ، کیونکہ روزہ اس کے لیے ڈھال ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس سند سے کئی لوگوں نے اسی کے مثل اعمش سے روایت کی ہے ،
۳- اور ابومعاویہ اور محاربی نے یہ حدیث بطریق : «الأعمش عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے ،
۴- دونوں حدیثیں صحیح ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: «البائة» کے اصل معنی جماع کے ہیں لیکن یہاں «مسبب» بول کر سبب (یعنی نکاح اور اس کے مصارف برداشت کرنے کی طاقت) مراد لیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب النكاح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1081
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (1845)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/النکاح 3 (5066) ، صحیح مسلم/النکاح 1 (1400) ، سنن النسائی/الصوم 43 (2241، 2244) ، والنکاح 3 (3211، 3212) ، مسند احمد 1/424، 425، 432) ( تحفة الأشراف : 9385) ، سنن الدارمی/النکاح 2 (2211) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الصوم 10 (1905) ، والنکاح 2 (5065) ، صحیح مسلم/النکاح (المصدر المذکور) ، سنن ابی داود/ الصوم 1 (2046) ، سنن ابن ماجہ/الصوم 1 (1845) ، (سنن النسائی/الصیام 43 (2242، 2243، 2245) ، والنکاح 3 (3208، 3210، 3213) ، مسند احمد (1/378) ، سنن الدارمی/النکاح 2 (2212) من غیر ہذا الوجہ۔»