کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: طواف کرتے وقت بات چیت کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 960
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الطَّوَافُ حَوْلَ الْبَيْتِ مِثْلُ الصَّلَاةِ إِلَّا أَنَّكُمْ تَتَكَلَّمُونَ فِيهِ ، فَمَنْ تَكَلَّمَ فِيهِ ، فَلَا يَتَكَلَّمَنَّ إِلَّا بِخَيْرٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، وَغَيْرُهُ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ مَوْقُوفًا ، وَلَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا ، إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ يَسْتَحِبُّونَ ، أَنْ لَا يَتَكَلَّمَ الرَّجُلُ فِي الطَّوَافِ إِلَّا لِحَاجَةٍ ، أَوْ يَذْكُرُ اللَّهَ تَعَالَى ، أَوْ مِنَ الْعِلْمِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیت اللہ کے گرد طواف نماز کے مثل ہے ۔ البتہ اس میں تم بول سکتے ہو ( جب کہ نماز میں تم بول نہیں سکتے ) تو جو اس میں بولے وہ زبان سے بھلی بات ہی نکالے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث ابن طاؤس وغیرہ نے ابن عباس سے موقوفاً روایت کی ہے ۔ ہم اسے صرف عطاء بن سائب کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں ،
۲- اسی پر اکثر اہل علم کا عمل ہے ، یہ لوگ اس بات کو مستحب قرار دیتے ہیں کہ آدمی طواف میں بلا ضرورت نہ بولے ( اور اگر بولے ) تو اللہ کا ذکر کرے یا پھر علم کی کوئی بات کہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 960
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الإرواء (121) ، المشكاة (2576) ، التعليق الرغيب (2 / 121) ، التعليق على ابن خزيمة (2739)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 5733) (صحیح)»