کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: حج یا عمرہ سے لوٹتے وقت پڑھی جانے والی دعا کا بیان۔
حدیث نمبر: 950
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَفَلَ مِنْ غَزْوَةً أَوْ حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ فَعَلَا ، فَدْفَدًا مِنَ الْأَرْضِ ، أَوْ شَرَفًا كَبَّرَ ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ سَائِحُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ ، صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ " . وَفِي الْبَاب : عَنْ الْبَرَاءِ ، وَأَنَسٍ ، وجَابِرٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی غزوے ، حج یا عمرے سے لوٹتے اور کسی بلند مقام پر چڑھتے تو تین بار اللہ اکبر کہتے ، پھر کہتے : «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير آيبون تائبون عابدون سائحون لربنا حامدون صدق الله وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب» ” اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ۔ سلطنت اسی کی ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کے لیے ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ ہم لوٹنے والے ہیں ، رجوع کرنے والے ہیں ، عبادت کرنے والے ہیں ، سیر و سیاحت کرنے والے ہیں ، اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں ۔ اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا ۔ اپنے بندے کی مدد کی ، اور تنہا ہی ساری فوجوں کو شکست دے دی “ ،
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں براء ، انس اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 950
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، صحيح أبي داود (2475)
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الحج 76 (1344) ، ( تحفة الأشراف : 7539) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/العمرة 12 (1797) ، والجہاد 133 (2995) ، والمغازي 29 (4116) ، والدعوات 52 (6385) ، صحیح مسلم/الحج 76 (المصدر المذکور) ، سنن ابی داود/ الجہاد 170 (2770) ، مسند احمد (2/5، 15، 21، 38، 63، 105) من غیر ہذا الوجہ۔»