کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: منیٰ سے لوٹنے کے بعد مکہ اور قریش کے مہاجرین۔
حدیث نمبر: 949
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، سَمِعَ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ يَعْنِي مَرْفُوعًا ، قَالَ : " يَمْكُثُ الْمُهَاجِرُ بَعْدَ قَضَاءِ نُسُكِهِ بِمَكَّةَ ثَلَاثًا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مَرْفُوعًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علاء بن حضرمی رضی الله عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مہاجر اپنے حج کے مناسک ادا کرنے کے بعد مکے میں تین دن ٹھہر سکتا ہے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اور اس سند سے اور طرح سے بھی یہ حدیث مرفوعاً روایت کی گئی ہے ۔
وضاحت:
۱؎: پہلے منیٰ سے لوٹنے کے بعد مہاجرین کی مکہ میں اقامت جائز نہیں تھی، بعد میں اسے جائز کر دیا گیا اور تین دن کی تحدید کر دی گئی، اس سے زیادہ کی اقامت اس کے لیے جائز نہیں کیونکہ اس نے اس شہر کو اللہ کی رضا کے لیے چھوڑ دیا ہے لہٰذا اس سے زیادہ وہ وہاں قیام نہ کرے، ورنہ یہ اس کے واپس آ جانے کے مشابہ ہو گا (یہ مدینے کے مہاجرین مکہ کے لیے خاص تھا)۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 949
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (1073)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/مناقب الأنصار 47 (3933) ، صحیح مسلم/الحج 81 (1352) ، سنن ابی داود/ المناسک 92 (2022) ، سنن النسائی/تقصیر الصلاة 4 (1455) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة 76 (1073) ، ( تحفة الأشراف : 11008) ، مسند احمد (5/52) ، سنن الدارمی/الصلاة 180 (1247) (صحیح)»