کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: طواف افاضہ کے بعد عورت کو حیض آ جائے تو کیا ہو گا؟
حدیث نمبر: 943
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ : ذَكَرْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ حَاضَتْ فِي أَيَّامِ مِنًى ، فَقَالَ : " أَحَابِسَتُنَا هِيَ ؟ " قَالُوا : إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلَا إِذًا " . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا طَافَتْ طَوَافَ الزِّيَارَةِ ثُمَّ حَاضَتْ فَإِنَّهَا تَنْفِرُ وَلَيْسَ عَلَيْهَا شَيْءٌ ، وَهُوَ قَوْلُ : الثَّوْرِيِّ ، وَالشَّافِعِيِّ ، وَأَحْمَدَ ، وَإِسْحَاق .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ صفیہ بنت حیی منیٰ کے دنوں میں حائضہ ہو گئی ہیں ، آپ نے پوچھا : ” کیا وہ ہمیں ( مکے سے روانہ ہونے سے ) روک دے گی ؟ “ لوگوں نے عرض کیا : وہ طواف افاضہ کر چکی ہیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تب تو کوئی حرج نہیں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں ابن عمر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ عورت جب طواف زیارت کر چکی ہو اور پھر اسے حیض آ جائے تو وہ روانہ ہو سکتی ہے ، طواف وداع چھوڑ دینے سے اس پر کوئی چیز لازم نہیں ہو گی ۔ یہی سفیان ثوری ، شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 943
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (3072 و 3073)
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الحج 67 (1211/383) ( تحفة الأشراف : 17512) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الحیض 27 (328) ، والحج 129 (1733) ، و145 (1757) ، و15 (1771) ، صحیح مسلم/الحج (المصدر المذکور رقم: 382) ، سنن ابی داود/ الحج 85 (2003) ، سنن النسائی/الحیض 23 (391) ، سنن ابن ماجہ/المناسک 83 (3072) ، موطا امام مالک/الحج 75 (266) ، مسند احمد (6/38، 39، 82، 99، 122، 164، 175، 193، 202، 207، 213، 224، 231، 253) ، سنن الدارمی/المناسک 73 (1958) من غیر ہذا الطریق۔»
حدیث نمبر: 944
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ : " مَنْ حَجَّ الْبَيْتَ فَلْيَكُنْ آخِرُ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ إِلَّا الْحُيَّضَ ، وَرَخَّصَ لَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` جس نے بیت اللہ کا حج کیا ، اس کا آخری کام بیت اللہ کا طواف ( وداع ) ہونا چاہیئے حائضہ عورتوں کے سوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رخصت دی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 944
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الإرواء (4 / 289)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف (وأخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف : 8081) (صحیح)»