حدیث نمبر: 919
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ يَرْفَعُ الْحَدِيثَ " أَنَّهُ كَانَ يُمْسِكُ عَنِ التَّلْبِيَةِ فِي الْعُمْرَةِ إِذَا اسْتَلَمَ الْحَجَرَ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ ، قَالُوا : لَا يَقْطَعُ الْمُعْتَمِرُ التَّلْبِيَةَ حَتَّى يَسْتَلِمَ الْحَجَرَ ، وقَالَ بَعْضُهُمْ : إِذَا انْتَهَى إِلَى بُيُوتِ مَكَّةَ قَطَعَ التَّلْبِيَةَ ، وَالْعَمَلُ عَلَى حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ ، وَالشَّافِعِيُّ ، وَأَحْمَدُ ، وَإِسْحَاق .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے مرفوعاً روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ میں تلبیہ پکارنا اس وقت بند کرتے جب حجر اسود کا استلام کر لیتے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے ،
۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، وہ کہتے ہیں کہ عمرہ کرنے والا شخص تلبیہ بند نہ کرے جب تک کہ حجر اسود کا استلام نہ کر لے ،
۴- بعض کہتے ہیں کہ جب مکے کے گھروں یعنی مکہ کی آبادی میں پہنچ جائے تو تلبیہ پکارنا بند کر دے ۔ لیکن عمل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ( مذکورہ ) حدیث پر ہے ۔ یہی سفیان ، شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے ،
۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، وہ کہتے ہیں کہ عمرہ کرنے والا شخص تلبیہ بند نہ کرے جب تک کہ حجر اسود کا استلام نہ کر لے ،
۴- بعض کہتے ہیں کہ جب مکے کے گھروں یعنی مکہ کی آبادی میں پہنچ جائے تو تلبیہ پکارنا بند کر دے ۔ لیکن عمل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ( مذکورہ ) حدیث پر ہے ۔ یہی سفیان ، شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں ۔