حدیث نمبر: 911
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً ، فَقَالَ لَهُ : " ارْكَبْهَا " فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا بَدَنَةٌ ، قَالَ لَهُ فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الرَّابِعَةِ : " ارْكَبْهَا وَيْحَكَ " أَوْ وَيْلَكَ ، قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَجَابِرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ فِي رُكُوبِ الْبَدَنَةِ إِذَا احْتَاجَ إِلَى ظَهْرِهَا ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ ، وَأَحْمَدَ ، وَإِسْحَاق ، وقَالَ بَعْضُهُمْ : لَا يَرْكَبُ مَا لَمْ يُضْطَرَّ إِلَيْهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ہدی کے اونٹ ہانکتے دیکھا ، تو اسے حکم دیا ” اس پر سوار ہو جاؤ “ ، اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ ہدی کا اونٹ ہے ، پھر آپ نے اس سے تیسری یا چوتھی بار میں کہا : ” اس پر سوار ہو جاؤ ، تمہارا برا ہو ۱؎ یا تمہاری ہلاکت ہو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں علی ، ابوہریرہ ، اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- صحابہ کرام وغیرہ میں سے اہل علم کی ایک جماعت نے ہدی کے جانور پر سوار ہونے کی اجازت دی ہے ، جب کہ وہ اس کا محتاج ہو ، یہی شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے ،
۴- بعض کہتے ہیں : جب تک مجبور نہ ہو ہدی کے جانور پر سوار نہ ہو ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں علی ، ابوہریرہ ، اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- صحابہ کرام وغیرہ میں سے اہل علم کی ایک جماعت نے ہدی کے جانور پر سوار ہونے کی اجازت دی ہے ، جب کہ وہ اس کا محتاج ہو ، یہی شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے ،
۴- بعض کہتے ہیں : جب تک مجبور نہ ہو ہدی کے جانور پر سوار نہ ہو ۔
وضاحت:
۱؎: یہ آپ نے تنبیہ اور ڈانٹ کے طور پر فرمایا کیونکہ سواری کی اجازت آپ اسے پہلے دے چکے تھے اور آپ کو یہ پہلے معلوم تھا کہ یہ ہدی ہے۔