کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: جمرات کی رمی کے وقت لوگوں کو دھکیلنے اور ہٹانے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 903
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَيْمَنَ بْنِ نَابِلٍ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ : " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي الْجِمَارُ عَلَى نَاقَةٍ لَيْسَ ضَرْبٌ وَلَا طَرْدٌ وَلَا إِلَيْكَ إِلَيْكَ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَإِنَّمَا يُعْرَفُ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَهُوَ حَدِيثُ أَيْمَنَ بْنِ نَابِلٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´قدامہ بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ ایک اونٹنی پر جمرات کی رمی کر رہے تھے ، نہ لوگوں کو دھکیلنے اور ہانکنے کی آواز تھی اور نہ ہٹو ہٹو کی ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- قدامہ بن عبداللہ کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- یہ حدیث اسی طریق سے جانی جاتی ہے ، یہ ایمن بن نابل کی حدیث ہے ۔ اور ایمن اہل حدیث ( محدثین ) کے نزدیک ثقہ ہیں ،
۳- اس باب میں عبداللہ بن حنظلہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔
وضاحت:
۱؎ جیسا کہ آج کل کسی بڑے افسر و حاکم کے آنے پر کیا جاتا ہے۔ اور ایسے مواقع پر دوسروں کو دھکیلنا اور دھکے نہیں دینا چاہیئے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 903
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (3035)
تخریج حدیث «سنن النسائی/الحج 220 (3064) ، سنن ابن ماجہ/المناسک 66 (3035) ، سنن الدارمی/المناسک 60 ( تحفة الأشراف : 11077) (صحیح)»