حدیث نمبر: 899
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَمَى الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ رَاكِبًا " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ ، وَقُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأُمِّ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ ، وَاخْتَارَ بَعْضُهُمْ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى الْجِمَارِ ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ " يَمْشِي إِلَى الْجِمَارِ " وَوَجْهُ هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَنَا أَنَّهُ رَكِبَ فِي بَعْضِ الْأَيَّامِ لِيُقْتَدَى بِهِ فِي فِعْلِهِ ، وَكِلَا الْحَدِيثَيْنِ مُسْتَعْمَلٌ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دسویں ذی الحجہ کو جمرہ کی رمی سواری پر کی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن ہے ،
۲- اس باب میں جابر ، قدامہ بن عبداللہ ، اور سلیمان بن عمرو بن احوص کی ماں ( رضی الله عنہم ) سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ،
۴- بعض نے یہ پسند کیا ہے کہ وہ جمرات تک پیدل چل کر جائیں ،
۵- ابن عمر سے مروی ہے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ جمرات تک پیدل چل کر جاتے ،
۶- ہمارے نزدیک اس حدیث کی توجیہ یہ ہے کہ آپ نے کبھی کبھار سواری پر رمی اس لیے کی تاکہ آپ کے اس فعل کی بھی لوگ پیروی کریں ۔ اور دونوں ہی حدیثوں پر اہل علم کا عمل ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن ہے ،
۲- اس باب میں جابر ، قدامہ بن عبداللہ ، اور سلیمان بن عمرو بن احوص کی ماں ( رضی الله عنہم ) سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ،
۴- بعض نے یہ پسند کیا ہے کہ وہ جمرات تک پیدل چل کر جائیں ،
۵- ابن عمر سے مروی ہے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ جمرات تک پیدل چل کر جاتے ،
۶- ہمارے نزدیک اس حدیث کی توجیہ یہ ہے کہ آپ نے کبھی کبھار سواری پر رمی اس لیے کی تاکہ آپ کے اس فعل کی بھی لوگ پیروی کریں ۔ اور دونوں ہی حدیثوں پر اہل علم کا عمل ہے ۔
حدیث نمبر: 900
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا رَمَى الْجِمَارَ مَشَى إِلَيْهَا ذَاهِبًا وَرَاجِعًا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ وَلَمْ يَرْفَعْهُ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ ، وقَالَ بَعْضُهُمْ : يَرْكَبُ يَوْمَ النَّحْرِ وَيَمْشِي فِي الْأَيَّامِ الَّتِي بَعْدَ يَوْمِ النَّحْرِ . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَكَأَنَّ مَنْ قَالَ : هَذَا إِنَّمَا أَرَادَ اتِّبَاعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي فِعْلِهِ ، لِأَنَّهُ إِنَّمَا رُوِيَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " رَكِبَ يَوْمَ النَّحْرِ حَيْثُ ذَهَبَ يَرْمِي الْجِمَارُ ، وَلَا يَرْمِي يَوْمَ النَّحْرِ إِلَّا جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رمی جمار کرتے ، تو جمرات تک پیدل آتے جاتے تھے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- بعض لوگوں نے اسے عبیداللہ ( العمری ) سے روایت کیا ہے ، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے ،
۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے ،
۴- بعض لوگ کہتے ہیں کہ دسویں ذی الحجہ کو سوار ہو سکتا ہے ، اور دسویں کے بعد باقی دنوں میں پیدل جائے گا ۔ گویا جس نے یہ کہا ہے اس کے پیش نظر صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فعل کی اتباع ہے ۔ اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ دسویں ذی الحجہ کو سوار ہوئے جب آپ رمی جمار کرنے گئے ۔ اور دسویں ذی الحجہ کو صرف جمرہ عقبہ ہی کی رمی کرے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- بعض لوگوں نے اسے عبیداللہ ( العمری ) سے روایت کیا ہے ، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے ،
۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے ،
۴- بعض لوگ کہتے ہیں کہ دسویں ذی الحجہ کو سوار ہو سکتا ہے ، اور دسویں کے بعد باقی دنوں میں پیدل جائے گا ۔ گویا جس نے یہ کہا ہے اس کے پیش نظر صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فعل کی اتباع ہے ۔ اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ دسویں ذی الحجہ کو سوار ہوئے جب آپ رمی جمار کرنے گئے ۔ اور دسویں ذی الحجہ کو صرف جمرہ عقبہ ہی کی رمی کرے ۔