حدیث نمبر: 895
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَفَاضَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَإِنَّمَا كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَنْتَظِرُونَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ثُمَّ يُفِيضُونَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( مزدلفہ سے ) سورج نکلنے سے پہلے لوٹے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں عمر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ،
۳- جاہلیت کے زمانے میں لوگ انتظار کرتے یہاں تک کہ سورج نکل آتا پھر لوٹتے تھے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں عمر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ،
۳- جاہلیت کے زمانے میں لوگ انتظار کرتے یہاں تک کہ سورج نکل آتا پھر لوٹتے تھے ۔
حدیث نمبر: 896
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ : أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق قَال : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ يُحَدِّثُ ، يَقُولُ : كُنَّا وُقُوفًا بِجَمْعٍ ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : " إِنَّ الْمُشْرِكِينَ كَانُوا لَا يُفِيضُونَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَكَانُوا يَقُولُونَ أَشْرِقْ ثَبِيرُ ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالَفَهُمْ ، فَأَفَاضَ عُمَرُ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں کہ` ہم لوگ مزدلفہ میں ٹھہرے ہوئے تھے ، عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے کہا : مشرکین جب تک کہ سورج نکل نہیں آتا نہیں لوٹتے تھے اور کہتے تھے : ثبیر ! تو روشن ہو جا ( تب ہم لوٹیں گے ) ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مخالفت کی ، چنانچہ عمر رضی الله عنہ سورج نکلنے سے پہلے لوٹے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔