کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: عرفات سے لوٹنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 886
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَبِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، وَأَبُو نُعَيْمٍ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ وَزَادَ فِيهِ بِشْرٌ ، وَأَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ وَأَمَرَهُمْ بِالسَّكِينَةِ ، وَزَادَ فِيهِ أَبُو نُعَيْمٍ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ ، وَقَالَ لَعَلِّي : " لَا أَرَاكُمْ بَعْدَ عَامِي هَذَا " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وادی محسر میں تیز چال چلے ۔ ( بشر کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ ) آپ مزدلفہ سے لوٹے ، آپ پرسکون یعنی عام رفتار سے چل رہے تھے ، لوگوں کو بھی آپ نے سکون و اطمینان سے چلنے کا حکم دیا ۔ ( اور ابونعیم کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ ) آپ نے انہیں ایسی کنکریوں سے رمی کرنے کا حکم دیا جو دو انگلیوں میں پکڑی جا سکیں ، اور فرمایا : ” شاید میں اس سال کے بعد تمہیں نہ دیکھ سکوں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- جابر کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں اسامہ بن زید رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 886
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، صحيح أبي داود (1699 و 1719)
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الحج 66 (1944) ، سنن النسائی/الحج 204 (3024) ، و215 (3055) ، سنن ابن ماجہ/المناسک 61 (3023) ، ( تحفة الأشراف : 2747 و275) ، مسند احمد (3/301، 332، 367، 391) ، ویأتي عند المؤلف رقم: 897) (صحیح)»