کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: منیٰ اسی کے ٹھہرنے کی جگہ ہے جو پہلے پہنچے۔
حدیث نمبر: 881
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ أُمِّهِ مُسَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَبْنِي لَكَ بَيْتًا يُظِلُّكَ بِمِنًى ، قَالَ : " لَا مِنًى مُنَاخُ مَنْ سَبَقَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ہم آپ کے لیے منی میں ایک گھر نہ بنا دیں جو آپ کو سایہ دے ۔ آپ نے فرمایا : ” نہیں ۱؎ ، منیٰ میں اس کا حق ہے جو وہاں پہلے پہنچے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: کیونکہ منی کو کسی کے لیے خاص کرنا درست نہیں، وہ رمی، ذبح اور حلق وغیرہ عبادات کی سر زمین ہے، اگر مکان بنانے کی اجازت دے دی جائے تو پورا میدان مکانات ہی سے بھر جائے گا اور عبادت کے لیے جگہ نہیں رہ جائے گی۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 881
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، ابن ماجة (3006) // ضعيف سنن ابن ماجة (648) ، ضعيف أبي داود (438 / 2019) //
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الحج 90 (2019) ، سنن ابن ماجہ/المناسک 52 (3006) ، سنن الدارمی/المناسک 87 (1980) ، ( تحفة الأشراف : 17963) (ضعیف) (یوسف کی والدہ ’’ مسیکہ ‘‘ مجہول ہیں)»