حدیث نمبر: 879
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَجْلَحِ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَالْفَجْرَ ثُمَّ غَدَا إِلَى عَرَفَاتٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ قَدْ تَكَلَّمُوا فِيهِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ ۱؎ میں ظہر ، عصر ، مغرب ، عشاء اور فجر پڑھائی ۲؎ پھر آپ صبح ۳؎ ہی عرفات کے لیے روانہ ہو گئے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
اسماعیل بن مسلم پر ان کے حافظے کے تعلق سے لوگوں نے کلام کیا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
اسماعیل بن مسلم پر ان کے حافظے کے تعلق سے لوگوں نے کلام کیا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: منیٰ: مکہ اور مزدلفہ کے درمیان کئی وادیوں پر مشتمل ایک کھلے میدان کا نام ہے، مشرقی سمت میں اس کی حد وہ نشیبی وادی ہے جو وادی محسّر سے اترتے وقت پڑتی ہے اور مغربی سمت میں جمرہ عقبہ ہے۔
۲؎: یوم الترویہ یعنی آٹھویں ذی الحجہ۔
۳؎: یعنی سورج نکلنے کے بعد۔
۲؎: یوم الترویہ یعنی آٹھویں ذی الحجہ۔
۳؎: یعنی سورج نکلنے کے بعد۔
حدیث نمبر: 880
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَجْلَحِ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى بِمِنًى الظُّهْرَ وَالْفَجْرَ ، ثُمَّ غَدَا إِلَى عَرَفَاتٍ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَأَنَسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ مِقْسَمٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ : قَالَ يَحْيَى : قَالَ شُعْبَةُ : لَمْ يَسْمَعْ الْحَكَمُ مِنْ مِقْسَمٍ إِلَّا خَمْسَةَ أَشْيَاءَ وَعَدَّهَا ، وَلَيْسَ هَذَا الْحَدِيثُ فِيمَا عَدَّ شُعْبَةُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں ظہر اور فجر پڑھی ۱؎ ، پھر آپ صبح ہی صبح ۲؎ عرفات کے لیے روانہ ہو گئے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- مقسم کی حدیث ابن عباس سے مروی ہے ،
۲- شعبہ کا بیان ہے کہ حکم نے مقسم سے صرف پانچ چیزیں سنی ہیں ، اور انہوں نے انہیں شمار کیا تو یہ حدیث شعبہ کی شمار کی ہوئی حدیثوں میں نہیں تھی ،
۳- اس باب میں عبداللہ بن زبیر اور انس سے بھی احادیث آئی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- مقسم کی حدیث ابن عباس سے مروی ہے ،
۲- شعبہ کا بیان ہے کہ حکم نے مقسم سے صرف پانچ چیزیں سنی ہیں ، اور انہوں نے انہیں شمار کیا تو یہ حدیث شعبہ کی شمار کی ہوئی حدیثوں میں نہیں تھی ،
۳- اس باب میں عبداللہ بن زبیر اور انس سے بھی احادیث آئی ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی: ظہر سے لے کر فجر تک پڑھی۔ ظہر، عصر جمع اور قصر کر کے، پھر مغرب اور عشاء جمع اور قصر کر کے۔
۲؎: یعنی نویں ذی الحجہ کو سورج نکلنے کے فوراً بعد۔
۲؎: یعنی نویں ذی الحجہ کو سورج نکلنے کے فوراً بعد۔