کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 863
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : " إِنَّمَا سَعَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ لِيُرِيَ الْمُشْرِكِينَ قُوَّتَهُ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ ، وَابْنِ عُمَرَ ، وَجَابِرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَهُوَ الَّذِي يَسْتَحِبُّهُ أَهْلُ الْعِلْمِ أَنْ يَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ ، فَإِنْ لَمْ يَسْعَ وَمَشَى بَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ رَأَوْهُ جَائِزًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی ، تاکہ مشرکین کو اپنی قوت دکھا سکیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں عائشہ ، ابن عمر اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- اہل علم اسی کو مستحب سمجھتے ہیں کہ آدمی صفا و مروہ کے درمیان سعی کرے ، اگر وہ سعی نہ کرے بلکہ صفا و مروہ کے درمیان عام چال چلے تو اسے جائز سمجھتے ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 863
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 5741) ، مسند احمد (1/255) (صحیح)»
حدیث نمبر: 864
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ، قَالَ : رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَمْشِي فِي السَّعْيِ ، فَقُلْتُ لَهُ : " أَتَمْشِي فِي السَّعْيِ بَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ ، قَالَ : لَئِنْ سَعَيْتُ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى ، وَلَئِنْ مَشَيْتُ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَرُوِي عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ نَحْوُهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´کثیر بن جمہان کہتے ہیں کہ` میں نے ابن عمر رضی الله عنہما کو سعی میں عام چال چلتے دیکھا تو میں نے ان سے کہا : کیا آپ صفا و مروہ کی سعی میں عام چال چلتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : اگر میں دوڑوں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوڑتے بھی دیکھا ہے ، اور اگر میں عام چال چلوں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عام چال چلتے بھی دیکھا ہے ، اور میں کافی بوڑھا ہوں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- سعید بن جبیر کے واسطے سے ابن عمر سے اسی طرح مروی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 864
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (2988)
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الحج 56 (1904) ، سنن النسائی/الحج 174 (2979) ، سنن ابن ماجہ/المناسک 43 (2988) ، ( تحفة الأشراف : 7379) ، مسند احمد (2/53) (صحیح)»