حدیث نمبر: 837
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَمْسُ فَوَاسِقَ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ ، الْفَأْرَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْغُرَابُ وَالْحُدَيَّا وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَابْنِ عُمَرَ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پانچ موذی جانور ہیں جو حرم میں یا حالت احرام میں بھی مارے جا سکتے ہیں : چوہیا ، بچھو ، کوا ، چیل ، کاٹ کھانے والا کتا “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- عائشہ کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں ابن مسعود ، ابن عمر ، ابوہریرہ ، ابوسعید اور ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- عائشہ کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں ابن مسعود ، ابن عمر ، ابوہریرہ ، ابوسعید اور ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎ کاٹ کھانے والے کتے سے مراد وہ تمام درندے ہیں جو لوگوں پر حملہ کر کے انہیں زخمی کر دیتے ہوں مثلاً شیر چیتا بھیڑیا وغیرہ۔
حدیث نمبر: 838
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ : السَّبُعَ الْعَادِيَ وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ وَالْفَأْرَةَ وَالْعَقْرَبَ وَالْحِدَأَةَ وَالْغُرَابَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ ، قَالُوا : الْمُحْرِمُ يَقْتُلُ السَّبُعَ الْعَادِيَ ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، وَالشَّافِعِيِّ ، وقَالَ الشَّافِعِيُّ : كُلُّ سَبُعٍ عَدَا عَلَى النَّاسِ أَوْ عَلَى دَوَابِّهِمْ فَلِلْمُحْرِمِ قَتْلُهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” محرم سرکش درندے ، کاٹ کھانے والے کتے ، چوہا ، بچھو ، چیل اور کوے مار سکتا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن ہے ،
۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔ وہ کہتے ہیں : محرم ظلم ڈھانے والے درندوں کو مار سکتا ہے ، سفیان ثوری اور شافعی کا بھی یہی قول ہے ۔ شافعی کہتے ہیں : محرم ہر اس درندے کو جو لوگوں کو یا جانوروں کو ایذاء پہنچائے ، مار سکتا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن ہے ،
۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔ وہ کہتے ہیں : محرم ظلم ڈھانے والے درندوں کو مار سکتا ہے ، سفیان ثوری اور شافعی کا بھی یہی قول ہے ۔ شافعی کہتے ہیں : محرم ہر اس درندے کو جو لوگوں کو یا جانوروں کو ایذاء پہنچائے ، مار سکتا ہے ۔