حدیث نمبر: 831
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا ، قَالَ : مِنْ أَيْنَ نُهِلُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ ، وَأَهْلُ الشَّامِ مِنْ الْجُحْفَةِ ، وَأَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ " . قَالَ : وَيَقُولُونَ : وَأَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم احرام کہاں سے باندھیں ؟ آپ نے فرمایا : ” اہل مدینہ ذی الحلیفہ ۲؎ سے احرام باندھیں ، اہل شام جحفہ ۳؎ سے اور اہل نجد قرن سے ۴؎ ۔ اور لوگوں کا کہنا ہے کہ اہل یمن یلملم سے ۵؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں ابن عباس ، جابر بن عبداللہ اور عبداللہ بن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں ابن عباس ، جابر بن عبداللہ اور عبداللہ بن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔
وضاحت:
۱؎: «مواقیت» میقات کی جمع ہے، میقات اس مقام کو کہتے ہیں جہاں سے حاجی یا معتمر احرام باندھ کر حج کی نیت کرتا ہے۔
۲؎: مدینہ کے قریب ایک مقام ہے۔ جس کی دوری مدینہ سے مکہ کی طرف دس کیلو میٹر ہے اور یہ مکہ سے سب سے دوری پر واقع میقات ہے۔
۳؎: مکہ کے قریب ایک بستی ہے جسے اب رابغ کہتے ہیں۔
۴؎: اسے قرن المنازل بھی کہتے ہیں، یہ مکہ سے سب سے قریب ترین میقات ہے۔ مکہ سے اس کی دوری ۹۵ کیلو میٹر ہے۔
۵؎: ایک معروف مقام کا نام ہے۔
۲؎: مدینہ کے قریب ایک مقام ہے۔ جس کی دوری مدینہ سے مکہ کی طرف دس کیلو میٹر ہے اور یہ مکہ سے سب سے دوری پر واقع میقات ہے۔
۳؎: مکہ کے قریب ایک بستی ہے جسے اب رابغ کہتے ہیں۔
۴؎: اسے قرن المنازل بھی کہتے ہیں، یہ مکہ سے سب سے قریب ترین میقات ہے۔ مکہ سے اس کی دوری ۹۵ کیلو میٹر ہے۔
۵؎: ایک معروف مقام کا نام ہے۔
حدیث نمبر: 832
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَقَّتَ لِأَهْلِ الْمَشْرِقِ الْعَقِيقَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ هُوَ أبُو جَعْفَرٍ مُحمَّدُ بنُ عَلِيِّ بنِ حُسَيْنِ بنِ عَلِيِّ بنِ أبِي طَالبٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مشرق کی میقات عقیق ۱؎ مقرر کی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن ہے ،
۲- محمد بن علی ہی ابو جعفر محمد بن علی بن حسین بن علی ابن ابی طالب ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن ہے ،
۲- محمد بن علی ہی ابو جعفر محمد بن علی بن حسین بن علی ابن ابی طالب ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: یہ ایک معروف مقام ہے، جو عراق کی میقات ”ذات العرق“ کے قریب ہے۔