کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: روزہ دار کا بوس و کنار کیا ہے؟
حدیث نمبر: 728
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَاشِرُنِي وَهُوَ صَائِمٌ ، وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں مجھ سے بوس و کنار کرتے تھے ، آپ اپنی خواہش پر تم میں سب سے زیادہ کنٹرول رکھنے والے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 728
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (1684)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف وانظر ما بعدہ ( تحفة الأشراف : 17418) (صحیح)»
حدیث نمبر: 729
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ ، وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَأَبُو مَيْسَرَةَ اسْمُهُ عَمْرُو بْنُ شُرَحْبِيلَ ، وَمَعْنَى لِإِرْبِهِ لِنَفْسِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے اور اپنی بیویوں کے ساتھ لپٹ کر لیٹتے تھے ، آپ اپنی جنسی خواہش پر تم میں سب سے زیادہ کنٹرول رکھنے والے تھے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اور «لإربه» کے معنی «لنفسه» ” اپنے نفس پر “ کے ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 729
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (1687)
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الصیام 12 (1106) ، سنن ابی داود/ الصیام 33 (2382) ، ( تحفة الأشراف : 1595 و17407) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الصوم 23 (1927) ، وصحیح مسلم/الصیام (المصدرالسابق) ، وسنن ابن ماجہ/الصیام 19 (1684) ، وسنن الدارمی/الصوم 21 (1763) ، من غیر ہذا الطریق۔»