کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: روزہ دار کے مسواک کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 725
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَا أُحْصِي يَتَسَوَّكُ وَهُوَ صَائِمٌ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا يَرَوْنَ بِالسِّوَاكِ لِلصَّائِمِ بَأْسًا ، إِلَّا أَنَّ بَعْضَ أَهْلِ الْعِلْمِ كَرِهُوا السِّوَاكَ لِلصَّائِمِ بِالْعُودِ وَالرُّطَبِ ، وَكَرِهُوا لَهُ السِّوَاكَ آخِرَ النَّهَارِ ، وَلَمْ يَرَ الشَّافِعِيُّ بِالسِّوَاكِ بَأْسًا أَوَّلَ النَّهَارِ وَلَا آخِرَهُ ، وَكَرِهَ أَحْمَدُ ، وَإِسْحَاق السِّوَاكَ آخِرَ النَّهَارِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عامر بن ربیعہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو روزہ کی حالت میں اتنی بار مسواک کرتے دیکھا کہ میں اسے شمار نہیں کر سکتا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- عامر بن ربیعہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے ،
۲- اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے ۔
۳- اسی حدیث پر اہل علم کا عمل ہے ۔ یہ لوگ روزہ دار کے مسواک کرنے میں کوئی حرج نہیں ۱؎ سمجھتے ، البتہ بعض اہل علم نے روزہ دار کے لیے تازی لکڑی کی مسواک کو مکروہ قرار دیا ہے ، اور دن کے آخری حصہ میں بھی مسواک کو مکروہ کہا ہے ۔ لیکن شافعی دن کے شروع یا آخری کسی بھی حصہ میں مسواک کرنے میں حرج محسوس نہیں کرتے ۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ نے دن کے آخری حصہ میں مسواک کو مکروہ قرار دیا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: خواہ زوال سے پہلے ہو یا زوال کے بعد، خواہ تازی لکڑی سے ہو، یا خشک، یہی اکثر اہل علم کا قول ہے اور یہی راجح۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 725
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، الإرواء (68) //، ضعيف أبي داود (511 / 2364) ، المشكاة (2009) // , شیخ زبیر علی زئی: (725) إسناده ضعيف / د 2364
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الصیام 26 (2364) ، ( تحفة الأشراف : 5034) (ضعیف) (سند میں عاصم بن عبیداللہ ضعیف راوی ہے)»