حدیث نمبر: 721
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَكَلَ أَوْ شَرِبَ نَاسِيًا فَلَا يُفْطِرْ ، فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ رَزَقَهُ اللَّهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے بھول کر کچھ کھا پی لیا ، وہ روزہ نہ توڑے ، یہ روزی ہے جو اللہ نے اسے دی ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: بخاری کی روایت ہے «فإنما أطعمه الله وسقاه» ۔
حدیث نمبر: 722
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، وَخَلَّاسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ أَوْ نَحْوَهُ . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، وَأُمِّ إِسْحَاق الْغَنَوِيَّةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ . وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، وَالشَّافِعِيُّ ، وَأَحْمَدُ ، وَإِسْحَاق ، وقَالَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ : إِذَا أَكَلَ فِي رَمَضَانَ نَاسِيًا فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ ، وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` ابوہریرہ رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں ابو سعید خدری اور ام اسحاق غنویہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے ۔ سفیان ثوری ، شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں ،
۴- مالک بن انس کہتے ہیں کہ جب کوئی رمضان میں بھول کر کھا پی لے تو اس پر روزوں کی قضاء لازم ہے ، پہلا قول زیادہ صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں ابو سعید خدری اور ام اسحاق غنویہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے ۔ سفیان ثوری ، شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں ،
۴- مالک بن انس کہتے ہیں کہ جب کوئی رمضان میں بھول کر کھا پی لے تو اس پر روزوں کی قضاء لازم ہے ، پہلا قول زیادہ صحیح ہے ۔