حدیث نمبر: 691
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ الْهِلَالَ ، قَالَ : " أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، أَتَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : يَا بِلَالُ " أَذِّنْ فِي النَّاسِ أَنْ يَصُومُوا غَدًا " . حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سِمَاكٍ نَحْوَهُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ فِيهِ اخْتِلَافٌ ، وَرَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَغَيْرُهُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا ، وَأَكْثَرُ أَصْحَابِ سِمَاكٍ رَوَوْا عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ ، قَالُوا : تُقْبَلُ شَهَادَةُ رَجُلٍ وَاحِدٍ فِي الصِّيَامِ ، وَبِهِ يَقُولُ : ابْنُ الْمُبَارَكِ ، وَالشَّافِعِيُّ ، وَأَحْمَدُ ، وَأَهْلُ الْكُوفَةِ ، قَالَ إِسْحَاق : لَا يُصَامُ إِلَّا بِشَهَادَةِ رَجُلَيْنِ وَلَمْ يَخْتَلِفْ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْإِفْطَارِ ، أَنَّهُ لَا يُقْبَلُ فِيهِ إِلَّا شَهَادَةُ رَجُلَيْنِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` ایک اعرابی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا : میں نے چاند دیکھا ہے ، آپ نے فرمایا : ” کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور کیا گواہی دیتے ہو کہ محمد اللہ کے رسول ہیں ؟ “ اس نے کہا : ہاں دیتا ہوں ، آپ نے فرمایا : ” بلال ! لوگوں میں اعلان کر دو کہ وہ کل روزہ رکھیں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابن عباس کی حدیث میں اختلاف ہے ۔ سفیان ثوری وغیرہ نے بطریق : «سماك عن عكرمة عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرسلاً روایت کی ہے ۔ اور سماک کے اکثر شاگردوں نے بھی بطریق : «سماك عن عكرمة عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرسلاً ہی روایت کی ہے ،
۲- اکثر اہل علم کا عمل اسی حدیث پر ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ماہ رمضان کے روزوں کے سلسلے میں ایک آدمی کی گواہی قبول کی جائے گی ۔ اور ابن مبارک ، شافعی ، احمد اور اہل کوفہ بھی اسی کے قائل ہیں ،
۳- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ روزہ بغیر دو آدمیوں کی گواہی کے نہ رکھا جائے گا ۔ لیکن روزہ بند کرنے کے سلسلے میں اہل علم میں کوئی اختلاف نہیں کہ اس میں دو آدمی کی گواہی قبول ہو گی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابن عباس کی حدیث میں اختلاف ہے ۔ سفیان ثوری وغیرہ نے بطریق : «سماك عن عكرمة عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرسلاً روایت کی ہے ۔ اور سماک کے اکثر شاگردوں نے بھی بطریق : «سماك عن عكرمة عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرسلاً ہی روایت کی ہے ،
۲- اکثر اہل علم کا عمل اسی حدیث پر ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ماہ رمضان کے روزوں کے سلسلے میں ایک آدمی کی گواہی قبول کی جائے گی ۔ اور ابن مبارک ، شافعی ، احمد اور اہل کوفہ بھی اسی کے قائل ہیں ،
۳- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ روزہ بغیر دو آدمیوں کی گواہی کے نہ رکھا جائے گا ۔ لیکن روزہ بند کرنے کے سلسلے میں اہل علم میں کوئی اختلاف نہیں کہ اس میں دو آدمی کی گواہی قبول ہو گی ۔