کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: مانگنے والے کے حق کا بیان۔
حدیث نمبر: 665
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ بُجَيْدٍ، وَكَانَتْ مِمَّنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ الْمِسْكِينَ لَيَقُومُ عَلَى بَابي فَمَا أَجِدُ لَهُ شَيْئًا أُعْطِيهِ إِيَّاهُ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ لَمْ تَجِدِي شَيْئًا تُعْطِينَهُ إِيَّاهُ إِلَّا ظِلْفًا مُحْرَقًا فَادْفَعِيهِ إِلَيْهِ فِي يَدِهِ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ ، وَحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي أُمَامَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أُمِّ بُجَيْدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن بجید کی دادی` ام بجید حواء رضی الله عنہا ( جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنے والیوں میں سے ہیں ) سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مسکین میرے دروازے پر کھڑا ہوتا ہے اور اسے دینے کے لیے میرے پاس کوئی چیز نہیں ہوتی ۔ ( تو میں کیا کروں ؟ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” اگر اسے دینے کے لیے تمہیں کوئی جلی ہوئی کھر ہی ملے تو وہی اس کے ہاتھ میں دے دو “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ام بجید رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں علی ، حسین بن علی ، ابوہریرہ اور ابوامامہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: اس میں مبالغہ ہے، مطلب یہ ہے کہ سائل کو یوں ہی مت لوٹاؤ جو بھی میسر ہو اسے دے دو۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الزكاة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 665
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، التعليق الرغيب (2 / 29) ، صحيح أبي داود (1467)
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الزکاة 33 (1667) ، سنن النسائی/الزکاة 70 (2566) ، ( تحفة الأشراف : 1835) ، مسند احمد (6/382- 383) ، وأخرجہ موطا امام مالک/صفة النبی ﷺ 5 (8) ، و مسند احمد (704) ، و (6/435) ، من غیر ہذا الطریق والسیاق (صحیح)»