حدیث نمبر: 661
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا تَصَدَّقَ أَحَدٌ بِصَدَقَةٍ مِنْ طَيِّبٍ وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا الطَّيِّبَ إِلَّا أَخَذَهَا الرَّحْمَنُ بِيَمِينِهِ ، وَإِنْ كَانَتْ تَمْرَةً تَرْبُو فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ حَتَّى تَكُونَ أَعْظَمَ مِنَ الْجَبَلِ ، كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فُلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ ، وَعَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ , وَأَنَسٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، وَحَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَبُرَيْدَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے بھی کسی پاکیزہ چیز کا صدقہ کیا اور اللہ پاکیزہ چیز ہی قبول کرتا ہے ۱؎ تو رحمن اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لیتا ہے ۲؎ اگرچہ وہ ایک کھجور ہی ہو ، یہ مال صدقہ رحمن کی ہتھیلی میں بڑھتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ وہ پہاڑ سے بڑا ہو جاتا ہے ، جیسے کہ تم میں سے ایک اپنے گھوڑے کے بچے یا گائے کے بچے کو پالتا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں ام المؤمنین عائشہ ، عدی بن حاتم ، انس ، عبداللہ بن ابی اوفی ، حارثہ بن وہب ، عبدالرحمٰن بن عوف اور بریدہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں ام المؤمنین عائشہ ، عدی بن حاتم ، انس ، عبداللہ بن ابی اوفی ، حارثہ بن وہب ، عبدالرحمٰن بن عوف اور بریدہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حرام صدقہ اللہ قبول نہیں کرتا ہے کیونکہ صدقہ دینے والا حرام کا مالک ہی نہیں ہوتا اس لیے اسے اس میں تصرف کرنے کا حق حاصل نہیں ہوتا۔
۲؎: «یمین» کا ذکر تعظیم کے لیے ہے ورنہ رحمن کے دونوں ہاتھ «یمین» ہی ہیں۔
۲؎: «یمین» کا ذکر تعظیم کے لیے ہے ورنہ رحمن کے دونوں ہاتھ «یمین» ہی ہیں۔
حدیث نمبر: 662
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَال : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ الصَّدَقَةَ وَيَأْخُذُهَا بِيَمِينِهِ ، فَيُرَبِّيهَا لِأَحَدِكُمْ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ مُهْرَهُ ، حَتَّى إِنَّ اللُّقْمَةَ لَتَصِيرُ مِثْلَ أُحُدٍ " . وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ سورة التوبة آية 104 ، وَيَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ سورة التوبة آية 104 ، و يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ سورة البقرة آية 276 . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا ، وَقَدْ قَالَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ : وَمَا يُشْبِهُ هَذَا مِنَ الرِّوَايَاتِ مِنَ الصِّفَاتِ ، وَنُزُولِ الرَّبِّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، قَالُوا : قَدْ تَثْبُتُ الرِّوَايَاتُ فِي هَذَا وَيُؤْمَنُ بِهَا وَلَا يُتَوَهَّمُ وَلَا يُقَالُ كَيْفَ . هَكَذَا رُوِيَ عَنْ مَالِكٍ ، وَسُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، أَنَّهُمْ قَالُوا فِي هَذِهِ الْأَحَادِيثِ : أَمِرُّوهَا بِلَا كَيْفٍ ، وَهَكَذَا قَوْلُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ ، وَأَمَّا الْجَهْمِيَّةُ فَأَنْكَرَتْ هَذِهِ الرِّوَايَاتِ ، وَقَالُوا : هَذَا تَشْبِيهٌ وَقَدْ ذَكَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كِتَابهِ الْيَدَ وَالسَّمْعَ وَالْبَصَرَ ، فَتَأَوَّلَتْ الْجَهْمِيَّةُ هَذِهِ الْآيَاتِ فَفَسَّرُوهَا عَلَى غَيْرِ مَا فَسَّرَ أَهْلُ الْعِلْمِ ، وَقَالُوا : إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَخْلُقْ آدَمَ بِيَدِهِ ، وَقَالُوا : إِنَّ مَعْنَى الْيَدِ هَاهُنَا الْقُوَّةُ ، وقَالَ إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ : إِنَّمَا يَكُونُ التَّشْبِيهُ إِذَا قَالَ : يَدٌ كَيَدٍ أَوْ مِثْلُ يَدٍ أَوْ سَمْعٌ كَسَمْعٍ أَوْ مِثْلُ سَمْعٍ ، فَإِذَا قَالَ : سَمْعٌ كَسَمْعٍ أَوْ مِثْلُ سَمْعٍ فَهَذَا التَّشْبِيهُ ، وَأَمَّا إِذَا قَالَ : كَمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : " يَدٌ وَسَمْعٌ وَبَصَرٌ " وَلَا يَقُولُ كَيْفَ ، وَلَا يَقُولُ مِثْلُ سَمْعٍ وَلَا كَسَمْعٍ ، فَهَذَا لَا يَكُونُ تَشْبِيهًا ، وَهُوَ كَمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى فِي كِتَابهِ : لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ سورة الشورى آية 11 .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ صدقہ قبول کرتا ہے اور اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لیتا ہے اور اسے پالتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے کے بچھڑے کو پالتا ہے یہاں تک کہ لقمہ احد پہاڑ کے مثل ہو جاتا ہے ۔ اس کی تصدیق اللہ کی کتاب ( قرآن ) سے ہوتی ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «ألم يعلموا أن الله هو يقبل التوبة عن عباده ويأخذ الصدقات» ” کیا انہیں نہیں معلوم کہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور صدقات لیتا ہے “ اور « ( يمحق الله الربا ويربي الصدقات» ” اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- نیز عائشہ رضی الله عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے ،
۳- اہل علم میں سے بہت سے لوگوں نے اس حدیث کے بارے میں اور اس جیسی صفات کی دوسری روایات کے بارے میں اور باری تعالیٰ کے ہر رات آسمان دنیا پر اترنے کے بارے میں کہا ہے کہ ” اس سلسلے کی روایات ثابت ہیں ، ان پر ایمان لایا جائے ، ان میں کسی قسم کا وہم نہ کیا جائے گا ، اور نہ اس کی کیفیت پوچھی جائے ۔ اور اسی طرح مالک ، سفیان بن عیینہ اور عبداللہ بن مبارک سے مروی ہے ، ان لوگوں نے ان احادیث کے بارے میں کہا ہے کہ ان حدیثوں کو بلاکیفیت جاری کرو ۱؎ اسی طرح کا قول اہل سنت و الجماعت کے اہل علم کا ہے ، البتہ جہمیہ نے ان روایات کا انکار کیا ہے ، وہ کہتے ہیں کہ ان سے تشبیہ لازم آتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کے کئی مقامات پر ” ہاتھ ، کان ، آنکھ “ کا ذکر کیا ہے ۔ جہمیہ نے ان آیات کی تاویل کی ہے اور ان کی ایسی تشریح کی ہے جو اہل علم کی تفسیر کے خلاف ہے ، وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے آدم کو اپنے ہاتھ سے پیدا نہیں کیا ، دراصل ہاتھ کے معنی یہاں قوت کے ہیں ۔ اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کہتے ہیں : تشبیہ تو تب ہو گی جب کوئی کہے : «يد كيد أو مثل يد» یا «سمع كسمع أو مثل سمع» ” یعنی اللہ کا ہاتھ ہمارے ہاتھ کی طرح ہے ، یا ہمارے ہاتھ کے مانند ہے ، اس کا کان ہمارے کان کی طرح ہے یا ہمارے کان کے مانند ہے “ تو یہ تشیبہ ہوئی ۔ ( نہ کہ صرف یہ کہنا کہ اللہ کا ہاتھ ہے ، اس سے تشبیہ لازم نہیں آتی ) اور جب کوئی کہے جیسے اللہ نے کہا ہے کہ اس کے ہاتھ کان اور آنکھ ہے اور یہ نہ کہے کہ وہ کیسے ہیں اور نہ یہ کہے کہ فلاں کے کان کی مانند یا فلاں کے کان کی طرح ہے تو یہ تشبیہ نہیں ہوئی ، یہ ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا : «ليس كمثله شيئ وهو السميع البصير» ” اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے اور وہ سمیع ہے بصیر ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- نیز عائشہ رضی الله عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے ،
۳- اہل علم میں سے بہت سے لوگوں نے اس حدیث کے بارے میں اور اس جیسی صفات کی دوسری روایات کے بارے میں اور باری تعالیٰ کے ہر رات آسمان دنیا پر اترنے کے بارے میں کہا ہے کہ ” اس سلسلے کی روایات ثابت ہیں ، ان پر ایمان لایا جائے ، ان میں کسی قسم کا وہم نہ کیا جائے گا ، اور نہ اس کی کیفیت پوچھی جائے ۔ اور اسی طرح مالک ، سفیان بن عیینہ اور عبداللہ بن مبارک سے مروی ہے ، ان لوگوں نے ان احادیث کے بارے میں کہا ہے کہ ان حدیثوں کو بلاکیفیت جاری کرو ۱؎ اسی طرح کا قول اہل سنت و الجماعت کے اہل علم کا ہے ، البتہ جہمیہ نے ان روایات کا انکار کیا ہے ، وہ کہتے ہیں کہ ان سے تشبیہ لازم آتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کے کئی مقامات پر ” ہاتھ ، کان ، آنکھ “ کا ذکر کیا ہے ۔ جہمیہ نے ان آیات کی تاویل کی ہے اور ان کی ایسی تشریح کی ہے جو اہل علم کی تفسیر کے خلاف ہے ، وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے آدم کو اپنے ہاتھ سے پیدا نہیں کیا ، دراصل ہاتھ کے معنی یہاں قوت کے ہیں ۔ اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کہتے ہیں : تشبیہ تو تب ہو گی جب کوئی کہے : «يد كيد أو مثل يد» یا «سمع كسمع أو مثل سمع» ” یعنی اللہ کا ہاتھ ہمارے ہاتھ کی طرح ہے ، یا ہمارے ہاتھ کے مانند ہے ، اس کا کان ہمارے کان کی طرح ہے یا ہمارے کان کے مانند ہے “ تو یہ تشیبہ ہوئی ۔ ( نہ کہ صرف یہ کہنا کہ اللہ کا ہاتھ ہے ، اس سے تشبیہ لازم نہیں آتی ) اور جب کوئی کہے جیسے اللہ نے کہا ہے کہ اس کے ہاتھ کان اور آنکھ ہے اور یہ نہ کہے کہ وہ کیسے ہیں اور نہ یہ کہے کہ فلاں کے کان کی مانند یا فلاں کے کان کی طرح ہے تو یہ تشبیہ نہیں ہوئی ، یہ ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا : «ليس كمثله شيئ وهو السميع البصير» ” اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے اور وہ سمیع ہے بصیر ہے “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی ان پر ایمان لاؤ اور ان کی کیفیت کے بارے میں گفتگو نہ کرو۔ یہاں آج کل کے صوفیاء و مبتدعین کے عقائد کا بھی رد ہوا، یہ لوگ سلف صالحین کے برعکس اللہ کی صفات کی تاویل اور کیفیت بیان کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 663
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الصَّوْمِ أَفْضَلُ بَعْدَ رَمَضَانَ ؟ فَقَالَ : " شَعْبَانُ لِتَعْظِيمِ رَمَضَانَ " ، قِيلَ : فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " صَدَقَةٌ فِي رَمَضَانَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، وَصَدَقَةُ بْنُ مُوسَى لَيْسَ عِنْدَهُمْ بِذَاكَ الْقَوِيِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : رمضان کے بعد کون سے روزے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” شعبان کے روزے جو رمضان کی تعظیم کے لیے ہوں “ ، پوچھا گیا : کون سا صدقہ افضل ہے ؟ فرمایا : ” رمضان میں صدقہ کرنا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے ،
۲- صدقہ بن موسیٰ محدثین کے نزدیک زیادہ قوی راوی نہیں ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے ،
۲- صدقہ بن موسیٰ محدثین کے نزدیک زیادہ قوی راوی نہیں ہیں ۔
حدیث نمبر: 664
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى الْخَزَّارُ الْبَصْرِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الصَّدَقَةَ لَتُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ وَتَدْفَعُ عَنْ مِيتَةِ السُّوءِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صدقہ رب کے غصے کو بجھا دیتا ہے اور بری موت سے بچاتا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ۔