حدیث نمبر: 658
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ الرَّبَاب، عَنْ عَمِّهَا سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ ، فَإِنَّهُ بَرَكَةٌ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ تَمْرًا فَالْمَاءُ فَإِنَّهُ طَهُورٌ " وقَالَ : " الصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ وَهِيَ عَلَى ذِي الرَّحِمِ ثِنْتَانِ صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، وَجَابِرٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ ، وَالرَّبَاب هِيَ أُمُّ الرَّائِحِ بِنْتُ صُلَيْعٍ ، وَهَكَذَا رَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ الرَّبَاب، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ ، وَرَوَى شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ , سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ الرَّبَاب ، وَحَدِيثُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، وَابْنِ عُيَيْنَةَ أَصَحُّ ، وَهَكَذَا رَوَى ابْنُ عَوْن , وَهِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ الرَّبَاب، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سلمان بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی روزہ افطار کرے تو کھجور سے افطار کرے ، کیونکہ اس میں برکت ہے ، اگر کھجور میسر نہ ہو تو پانی سے افطار کرے وہ نہایت پاکیزہ چیز ہے “ ، نیز فرمایا : ” مسکین پر صدقہ ، صرف صدقہ ہے اور رشتے دار پر صدقہ میں دو بھلائیاں ہیں ، یہ صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- سلمان بن عامر کی حدیث حسن ہے ،
۲- سفیان ثوری نے بھی عاصم سے بطریق : «حفصة بنت سيرين ، عن الرباب ، عن سلمان بن عامر ، عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی حدیث کی طرح روایت کی ہے ،
۳- نیز شعبہ نے بطریق : «عاصم ، عن حفصة ، عن سلمان بن عامر» روایت کی ہے اور اس میں انہوں نے رباب کا ذکر نہیں کیا ہے ،
۴- سفیان ثوری اور ابن عیینہ کی حدیث ۱؎ زیادہ صحیح ہے ،
۵- اسی طرح ابن عون اور ہشام بن حسان نے بھی بطریق : «حفصة ، عن الرباب ، عن سلمان بن عامر» روایت کی ہے ،
۶- اس باب میں عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی اہلیہ زینب ، جابر اور ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- سلمان بن عامر کی حدیث حسن ہے ،
۲- سفیان ثوری نے بھی عاصم سے بطریق : «حفصة بنت سيرين ، عن الرباب ، عن سلمان بن عامر ، عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی حدیث کی طرح روایت کی ہے ،
۳- نیز شعبہ نے بطریق : «عاصم ، عن حفصة ، عن سلمان بن عامر» روایت کی ہے اور اس میں انہوں نے رباب کا ذکر نہیں کیا ہے ،
۴- سفیان ثوری اور ابن عیینہ کی حدیث ۱؎ زیادہ صحیح ہے ،
۵- اسی طرح ابن عون اور ہشام بن حسان نے بھی بطریق : «حفصة ، عن الرباب ، عن سلمان بن عامر» روایت کی ہے ،
۶- اس باب میں عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی اہلیہ زینب ، جابر اور ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: جس میں رباب کے واسطے کا ذکر ہے۔